
خلیج اردو
دبئی: ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کو 147 رنز کا ہدف عبور کر کے شکست دینے کے باوجود بھارتی کرکٹ ٹیم نے ونرز ٹرافی وصول کرنے سے انکار کردیا۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے اس غیر معمولی واقعے نے ایونٹ کے اختتامی لمحات کو سیاسی رنگ دے دیا۔
ذرائع کے مطابق بھارتی کھلاڑیوں نے ٹرافی لینے سے انکار اس وجہ سے کیا کہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی کو ٹرافی دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سائیکیا نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اہم حکومتی رہنما سے ٹرافی نہیں لیں گے۔ ان کے مطابق یہ بدقسمتی ہے لیکن امید ہے کہ جلد کھلاڑیوں کو میڈلز اور ٹرافی موصول ہو جائے گی۔
میچ کے بعد تقریب میں صرف پلیئر آف دی ٹورنامنٹ، پلیئر آف دی میچ اور پاکستانی کپتان سلمان آغا کے ساتھ مختصر گفتگو ہوئی، جبکہ بھارتی کپتان سوریہ کمار یادیو نے میڈیا سے کہا کہ ٹیم کو ٹرافی سے محروم رکھا گیا کیونکہ کھلاڑیوں نے محسن نقوی سے یہ ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کیا۔
اگرچہ تقریب ٹرافی کے بغیر ختم ہوئی، لیکن دبئی اسٹیڈیم آتشبازی اور جشن سے روشن رہا۔
ایشیا کپ کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان میچز شروع سے ہی کشیدہ رہے۔ پہلے میچ کے بعد بھارتی ٹیم نے حملے میں شہید ہونے والوں اور اپنی مسلح افواج سے اظہار یکجہتی کے لیے روایتی ہاتھ ملانے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد کھلاڑیوں کی متنازع حرکات اور بیانات پر دونوں طرف سے جرمانے اور شکایات سامنے آئیں۔
پاکستانی فاسٹ بولر حارث رؤف پر شائقین کو "6-0” کا اشارہ کرنے پر میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائد ہوا جبکہ بھارت کے کپتان سوریہ کمار یادیو پر بھی اپنی فتح کو بھارتی افواج کے نام کرنے پر جرمانہ کیا گیا۔ پی سی بی نے ان کے خلاف سیاسی بیان دینے پر آئی سی سی سے باضابطہ شکایت بھی درج کرائی۔
اسی دوران پی سی بی نے بھارتی بولر ارشدیپ سنگھ پر بھی فائنل سے قبل "نامناسب اشارے” کرنے کا الزام لگایا، جبکہ آخری میچ میں جسپریت بمراہ نے حارث رؤف کی وکٹ لینے کے بعد ایسا جشن منایا جو جنگی طیارہ گرنے کی عکاسی کرتا تھا۔
اس تمام صورتحال نے ایشیا کپ کو ایک بار پھر کھیل سے زیادہ سیاست کا میدان بنا دیا۔







