
خلیج اردو
شارجہ: بھارت کے شہر لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ میرین انجینئر انوراگ تیواری 28 جون کی شام دبئی سے شارجہ روانہ ہوئے تاکہ وہ کمرشل جہاز "جانا 505” پر نئی اسائنمنٹ شروع کر سکیں۔ لیکن اسی روز اہل خانہ کو اطلاع دی گئی کہ انوراگ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
مرحوم کے والد انیل تیواری نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے روانگی سے پہلے آخری بار ویڈیو کال پر کہا، "پاپا، اب میں جہاز پر ہوں گا۔” انوراگ نے بھارت میں 29 جون کی صبح 4 بجے بھیجا گیا "بیسٹ آف لک” میسج فوراً جواب دے کر پڑھا، مگر بعد ازاں کسی بھی کال یا پیغام کا جواب نہ آیا۔
رات 9 بج کر 38 منٹ پر خاندان کو اطلاع دی گئی کہ انوراگ جہاز کے انجن روم میں بے ہوش پائے گئے، سی پی آر کیا گیا لیکن اسپتال لے جاتے وقت دل کی دھڑکن بند ہو چکی تھی۔ ابتدائی فرانزک رپورٹ میں موت کی وجہ ہیٹ اسٹروک اور ملٹی آرگن فیلیر بتائی گئی ہے۔
تاہم خاندان کو اس وضاحت پر یقین نہیں۔ ان کے مطابق انوراگ نے خود بتایا تھا کہ انجن روم میں اکیلے داخل ہونے کی اجازت نہیں، پھر وہ تنہا وہاں کیسے گئے؟ انیل نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ بے ہوش تھے لیکن سانس لے رہے تھے تو فوراً سی پی آر کیوں دیا گیا؟
خاندان نے یہ بھی کہا کہ ایس او پی کے مطابق انجن روم کی وینٹیلیشن لازم تھی، ممکنہ طور پر حفاظتی اقدامات نظر انداز کیے گئے۔ وہ اس بات پر بھی شاکی ہیں کہ مختلف اداروں سے مختلف بیانات ملے — ایک جگہ کہا گیا کہ انوراگ نے ڈیک پر ہوش کھویا، دوسری جگہ انجن روم میں۔
انوراگ نے 19 جون کو دبئی میں "سینرجی شپ عربیہ” نامی کمپنی میں بطور تھرڈ انجینئر شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ سعودی کمپنی کی ملکیت جہاز "جانا 505” پر کام کر رہے تھے، اور مشن مکمل کرنے کے بعد برطانیہ جا کر ایک تعلیمی کورس کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔
مرحوم کی میت 5 جولائی کو لکھنؤ پہنچی اور اسی شام آخری رسومات ادا کی گئیں۔ انیل تیواری کے مطابق ان کی بہو اور بیوی کئی بار بے ہوش ہو چکی ہیں، جبکہ انوراگ کا تین سالہ بیٹا مسلسل اپنے والد کو تلاش کر رہا ہے۔
بھارتی قونصلیٹ نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ انہوں نے اہل خانہ کے ساتھ رابطے میں رہ کر ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔
اہل خانہ نے اب متحدہ عرب امارات کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل فرانزک اور ٹاکسیولوجی رپورٹ سمیت واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اصل میں کیا ہوا، اور اگر کسی کی غفلت ثابت ہو تو اسے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔







