
خلیج اردو
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو سعودی عرب نے ریاض کے دورے کی دوبارہ دعوت دے دی ہے۔ عراقی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق سعودی قیادت نے یہ دعوت ایسے وقت میں دی ہے جب عراق میں گزشتہ ماہ ہونے والے مہلک امریکی سعودی حملوں کے بعد ایران نواز گروہوں نے اپنے ممکنہ ردعمل کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
علی الزیدی نے جمعہ کے روز سعودی انٹیلی جنس چیف خالد بن علی الحمیدان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران سعودی انٹیلی جنس چیف نے سعودی قیادت کا پیغام عراقی وزیراعظم تک پہنچایا جس میں انہیں سعودی دارالحکومت ریاض کے دورے کی دعوت کی تجدید کی گئی۔
عراقی وزیراعظم کا ریاض کا دورہ جولائی کے آخر میں طے تھا تاہم 29 جولائی کو عراق میں ہونے والے امریکی سعودی حملوں کے بعد یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ان حملوں میں 20 جنگجو ہلاک ہوئے تھے جن میں 5 ایرانی شہری بھی شامل تھے۔
حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا جبکہ ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات بھی پیدا ہوئے۔ تاہم ان گروہوں نے اب اپنے ردعمل کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی قیادت کی جانب سے عراقی وزیراعظم کو دوبارہ ریاض آنے کی دعوت کو دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور علاقائی کشیدگی کے دوران سفارتی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔







