
اماراتی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہن نے سیکیورٹی بات چیت کے لیے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا دورہ کیا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے یو اے ای کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘ڈبلیو ای ایم’ کا حوالہ دے کر کہا کہ یوسی کوہن نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زید النہیان کے ساتھ ‘سلامتی کے شعبوں میں تعاون’ اور علاقائی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین ‘امن معاہدے’ کے بعد کسی اسرائیلی عہدیدار کا ابوظہبی کے لیے یہ پہلا اعلیٰ سطح کا دورہ ہے۔
یہ یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے نتیجے میں اسرائیل مغربی کنارے کے حصوں کے الحاق کو مؤخر کرنے پر راضی ہوا ہے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ یہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔
یو اے ای اور اسرائیل کے معاہدے پر خلیج تعاون ممالک (جی سی سی) میں سے بحرین اور عمان نے اس کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ سعودی عرب، کویت اور قطر نے ابھی کوئی ردعمل نہیں کیا۔
مسلم دنیا کے اہم ملک سعودی عرب کو یہودی ریاست کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے سے قبل حساس سیاسی معاملات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بعدازاں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے بعد امریکا نے مسلم دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر نے کہا تھا کہ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل اور یو اے ای کے رہنما آئندہ ہفتوں میں وائٹ ہاؤس میں معاہدے پر دستخط کریں گے۔







