
خلیج اردو
ابوظہبی: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کی خبروں اور تصویروں نے بچوں کی ذہنی و جذباتی کیفیت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم ماہرین ذہنی صحت نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ ان خبروں پر عمر کے مطابق کھلے اور سادہ انداز میں بات کریں تاکہ وہ خوف یا الجھن کا شکار نہ ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو بچوں کے سوالات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود نرمی سے بات چیت کا آغاز کریں، مثلاً: "آپ نے شاید سنا ہو کہ دنیا میں کچھ سنجیدہ باتیں ہو رہی ہیں، اگر آپ کو کبھی کوئی فکر یا الجھن ہو تو آپ مجھ سے بات کر سکتے ہیں۔” یہ جملے بچوں کو تحفظ کا احساس دیتے ہیں۔
مختلف عمر کے بچوں کے ردعمل
ایسٹر ڈی یو چائلڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کی کلینیکل سائیکالوجسٹ گایتری گووند گجم نے بتایا کہ:
-
7 سال سے کم عمر کے بچے خیالی دنیا میں جیتے ہیں، انہیں جغرافیے کی سمجھ نہیں ہوتی، اس لیے وہ دور دراز کے واقعات کو بھی فوری خطرہ سمجھ لیتے ہیں۔
-
7 سے 12 سال کے بچے منطقی سوچ کے حامل ہوتے ہیں، اور قریبی افراد کی سلامتی کو لے کر پریشان ہو سکتے ہیں۔
-
نوجوان یا ٹین ایجرز اخلاقی اور انسانی پہلوؤں پر غور کرتے ہیں اور بعض اوقات بے بسی، غصہ یا اداسی محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بچوں کے جذبات کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ جملے جیسے کہ "ڈرا ہوا محسوس کرنا ٹھیک ہے” یا "مجھے پتہ ہے یہ سب سمجھنا مشکل ہے”، بچوں کو جذباتی سہارا دیتے ہیں۔
جذباتی دباؤ کے اشارے
انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کے ماہر نفسیات ڈاکٹر شاجو جارج کے مطابق اگر کوئی بچہ بار بار سلامتی سے متعلق سوالات کرے، کھیلوں میں دلچسپی نہ لے یا غیر معمولی طور پر خاموش ہو جائے، تو یہ جذباتی بوجھ کی علامت ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ والدین سوالات کے جواب ایمانداری سے لیکن سادہ انداز میں دیں، اور اپنے ذاتی خوف یا دباؤ بچوں پر ظاہر نہ کریں۔ خوفناک جملوں جیسے کہ "لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں” یا "یہ تیسری عالمی جنگ بن سکتی ہے” سے اجتناب کرنا چاہیے۔
مثبت پہلو اجاگر کریں
ڈاکٹر سمت لکھنپال، ایسٹر کلینک لیوان کے ماہر اطفال، نے کہا کہ بچوں کو یہ سننے کی ضرورت ہے کہ وہ محفوظ ہیں، حالات بہتر ہو جائیں گے، اور بڑے لوگ مسئلے کو حل کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی میڈیا رسائی محدود کریں اور پرامید کہانیاں، امن قائم کرنے والے افراد اور انسانیت کی خدمت کرنے والے کرداروں کو اجاگر کریں۔
والدین کے لیے مشورے
-
گھر کو محفوظ ماحول بنائیں اور اس کا احساس دلائیں
-
روزمرہ معمولات برقرار رکھیں تاکہ بچوں کو کنٹرول کا احساس ہو
-
بچوں کے ساتھ جذباتی طور پر جڑے رہیں
-
بچوں کے سامنے خبروں کی حد مقرر کریں
-
ہمدردی، ہمت اور امید کی کہانیاں سنائیں
-
بچوں کو دوسروں کی مدد کرنے کی ترغیب دیں جیسے کھلونے عطیہ کرنا، امید بھرے پیغامات لکھنا وغیرہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے اپنے جذباتی ردعمل والدین سے سیکھتے ہیں، لہٰذا اگر والدین خود پر سکون اور پر اعتماد رہیں تو بچے بھی جذباتی طور پر مضبوط بنتے ہیں۔
کب پیشہ ورانہ مدد لینی چاہیے؟
اگر بچے طویل عرصے تک پریشان رہیں یا ان میں بے چینی، خوف، نیند یا خوراک میں تبدیلی جیسے علامات ظاہر ہوں تو والدین کو فوری طور پر کسی چائلڈ سائیکالوجسٹ یا ماہر ذہنی صحت سے رجوع کرنا چاہیے۔ بروقت مدد سے بچوں کو جذباتی مسائل سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔






