
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں بارش پیدا کرنے کے لیے لیزر ٹیکنالوجی کے استعمال پر تحقیق نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ لیبارٹری تجربات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ لیزر کی مدد سے بادلوں میں پانی کے قطرات کی تشکیل ممکن ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب یو اے ای ریسرچ پروگرام برائے رین انہانسمنٹ سائنس (UAEREP) کی اسٹریٹجک ڈائریکشنز کمیٹی نے ٹیکنالوجی انوویشن انسٹیٹیوٹ (TII) ابوظہبی میں جاری تحقیق کے وسط مدتی جائزے کو مکمل کیا۔
یہ منصوبہ ڈاکٹر گیوم میٹراس کی قیادت میں جاری ہے، جو ڈائریکٹڈ انرجی ریسرچ سینٹر کے سینئر ڈائریکٹر ہیں۔ ان کی ٹیم ہائی پاور لیزرز کے ذریعے بادلوں کی تشکیل اور ان میں پانی کے قطرات پیدا کرنے کے امکانات کا مطالعہ کر رہی ہے۔
محققین اب فیلڈ ٹرائلز کی تیاری کر رہے ہیں جن میں ’’موبائل ہائی پاور پلزڈ لیزر ڈیمونسٹریٹر‘‘ استعمال کیا جائے گا۔ یہ نظام ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور ملک کے مختلف مقامات پر نصب کیا جا سکے گا۔
تحقیق میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے ماڈلنگ کی صلاحیتوں کو بھی وسعت دی گئی ہے، تاکہ امارات کے مخصوص موسمی حالات مثلاً حجَر پہاڑوں پر بننے والے کنویکٹیو بادل اور مغربی علاقوں میں گرمیوں کے بادلوں کی نقل کی جا سکے۔
نیشنل سینٹر آف میٹیورولوجی (NCM) کے ڈائریکٹر جنرل اور عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کے صدر ڈاکٹر عبداللہ المنصوری نے کہا کہ ’’لیزر کے ذریعے بارش میں اضافہ ایک امید افزا جدت ہے جو خشک اور نیم خشک علاقوں میں بارش کے امکانات بڑھانے کی ہماری کوششوں کو تقویت دے گی۔‘‘
یو اے ای ریسرچ پروگرام برائے رین انہانسمنٹ سائنس کی ڈائریکٹر علیا المزروعی نے کہا کہ ’’یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات کو لیزر پر مبنی بارش پیدا کرنے والی جدید تحقیق میں صفِ اول میں لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ تجرباتی طبیعیات، جدید ماحولیاتی ماڈلنگ اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے موسم میں تبدیلی کے نئے طریقے دریافت کر رہا ہے۔‘‘







