
خلیج اردو
ابوظہبی میں جاری انٹرنیشنل ہنٹنگ اینڈ ایکویسٹرین ایگزیبیشن (ADIHEX) میں ایک شخصیت سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے — علی بن محمد، جنہیں لوگ محبت سے "پہاڑی انسان” کہتے ہیں۔ عصا تھامے یہ بزرگ ہر سال راس الخیمہ سے یہاں پہنچتے ہیں، اور لوگ ان کے ساتھ تصاویر لینے کو بے تاب رہتے ہیں۔
پہاڑوں کی زندگی
علی بن محمد کی پرورش 1940 اور 1950 کی دہائی میں راس الخیمہ کے پہاڑوں میں ہوئی۔ اُس دور میں شکار روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔ وہ gazelle (ہرن)، لومڑیاں اور بھیڑیے شکار کرتے، اور گوشت بطور خوراک استعمال ہوتا۔ ان کے مطابق اس وقت ہتھیار اٹھانا ضروری تھا تاکہ نہ صرف جنگلی جانوروں بلکہ ممکنہ حملہ آوروں سے بھی تحفظ رہے۔
وہ یاد کرتے ہیں:
"ہم نے بچپن میں ماوزر رائفل سے شکار کیا۔ میں نے پندرہ برس کی عمر میں پہلا ہرن شکار کیا تھا۔ اُس وقت ہم لومڑیاں بھی کھاتے تھے، ان کا ذائقہ اچھا لگتا تھا۔ کھال ہم لباس کے طور پر استعمال کرتے تھے۔”
جنگلی حیات اور بدلتا وقت
وہ بتاتے ہیں کہ اُس علاقے میں کبھی جنگلی بلیاں، گدھ، لومڑیاں اور بھیڑیے عام تھے، مگر 1960 کی دہائی کے بعد یہ سب ختم ہوگئے۔
"آج کل ہمارے پہاڑوں میں بھیڑیے دکھائی نہیں دیتے۔”
علی بن محمد کا کہنا ہے کہ اُن دنوں پہاڑوں میں نہ اسکول تھے، نہ ڈاکٹر۔ صرف پہاڑ اور اُس کے جانور ہی زندگی کا حصہ تھے۔
فوجی خدمات
1972 میں راس الخیمہ کے اتحاد میں شامل ہونے کے بعد ان کی پہاڑی زندگی ختم ہوئی۔ وہ شہر منتقل ہوئے اور فوج میں شامل ہوگئے۔ لبنان کی خانہ جنگی کے دوران وہ Deterrent Forces کا حصہ رہے اور 1980 کی دہائی میں چار ماہ تک مختلف یونٹس میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 17 دسمبر 1990 کو ریٹائرمنٹ لی۔
آج کا "ہیرو”
آج بھی وہ ADIHEX میں آتے ہیں، جدید اسلحہ دیکھتے ہیں، اور اگر کوئی چیز پسند آئے تو اپنے علاقے سے خرید لیتے ہیں۔ اسٹالز پر چلتے ہوئے لوگ انہیں روک کر سلام کرتے ہیں یا سیلفی لیتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ:
"یہ ایک اہم شخصیت ہیں۔”
علی بن محمد خود عاجزی سے کہتے ہیں کہ وہ کبھی کبھار مقامی ثقافتی پروگرامز میں بھی نظر آ جاتے ہیں۔







