متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے ڈاکٹروں کی وارننگ: بچوں میں اسکول کے بعد بڑھتا برن آؤٹ، ابتدائی علامات سے والدین کو آگاہ رہنے کی ضرورت

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ماہرینِ صحت نے بچوں میں اسکول کے بعد کے برن آؤٹ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اس کی ابتدائی علامات کو بروقت پہچانیں تاکہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر نہ ہو۔ یہ تشویش حالیہ عالمی مطالعات کے نتائج کے مطابق ہے جن میں زیادہ مصروف اوقات کار کو بچوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ایک مطالعے میں 2,500 بچوں (عمر 7 سے 12 سال) کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس سے ظاہر ہوا کہ ہر تین میں سے ایک بچہ اسکول کے بعد باہر کھیلنے نہیں جاتا، جبکہ پانچ میں سے ایک بچہ ویک اینڈ پر بھی نہیں کھیلتا۔ تحقیق میں کہا گیا کہ بچوں کی سماجی اور جذباتی نشوونما کے لیے باہر کھیلنا نہایت ضروری ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف جارجیا کی ایک تحقیق نے بھی خبردار کیا کہ ہائی اسکول کے طلبہ کی طویل اضافی سرگرمیاں (جیسے ٹیوشن، کھیل، کلبز اور ہوم ورک) ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔

انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کی ماہر اطفال ڈاکٹر ماماتا بوتھرا نے کہا کہ "بچوں میں برن آؤٹ کا مسئلہ حقیقت ہے اور یو اے ای سمیت دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے۔ بچوں میں برن آؤٹ کی علامات بڑوں جیسی نہیں ہوتیں، اس لیے والدین کو باریک اشاروں پر دھیان دینا چاہیے۔” ان کے مطابق بار بار سر درد، پیٹ میں درد، غیر واضح تھکن، نیند کی خرابی، چڑچڑاپن، موڈ میں تبدیلیاں، پسندیدہ سرگرمیوں میں عدم دلچسپی یا تعلیمی کارکردگی میں اچانک کمی برن آؤٹ کی نشانیاں ہو سکتی ہیں۔

این ایم سی اسپیشلٹی اسپتال العین کے ماہر اطفال پنکج نند لال تارڈیا نے کہا کہ "زندگی میں توازن قائم کرنا نہایت ضروری ہے۔ بچوں کو مناسب نیند، روزانہ غیر منظم کھیل، اور بغیر گیجٹ کے خاندانی کھانے ملنے چاہئیں۔ بچوں پر دوسروں کا ساتھ دینے کا دباؤ ڈالنے کے بجائے سرگرمیاں ان کی اصل دلچسپی کے مطابق ہونی چاہئیں۔”

پرائم میڈیکل سینٹر، البراری کی ڈاکٹر سارہ احمد نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ان کے روزمرہ شیڈول کے حوالے سے کھلے دل سے بات کرنا ضروری ہے۔ والدین کو عمر کے مطابق نیند کو ترجیح دینی چاہیے: چھوٹے بچوں کے لیے 9 سے 12 گھنٹے اور نوعمروں کے لیے 8 سے 10 گھنٹے۔ ان کے مطابق، بچے کی طویل مدتی کامیابی صرف تعلیمی کارکردگی سے نہیں بلکہ توازن، آرام اور خوشی سے جڑی ہے، اور والدین کا سب سے بڑا تحفہ یہی توازن قائم رکھنا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button