
خلیج اردو
ابوظہبی انٹرنیشنل ہنٹنگ اینڈ ایکویسٹرین ایگزیبیشن (ADIHEX) کے دوران پیر کی رات اونٹوں کی نیلامی میں ایک مادہ بچی اونٹنی 5 لاکھ درہم کی ریکارڈ قیمت پر فروخت ہوئی۔ یہ اونٹنی مشہور نسل کے "شامخ” والد اور "سمحہ الصغیرہ” والدہ سے جنم لینے والی ہے۔
حتمی بولی محمد المنہالی نے جیتی، جو اس سے قبل 1 لاکھ 40 ہزار اور 90 ہزار درہم کی نیلامیوں میں بھی کامیاب رہے تھے۔ اس اونٹنی کے لیے بولی کا مقابلہ نہایت شدید رہا، خاص طور پر کم عمر شاعر مبارک بن بخیت الشمسی کے ساتھ، جنہوں نے 40 ہزار سے براہ راست 1 لاکھ درہم کی بولی لگا کر نیلامی کو سنسنی خیز بنا دیا۔ قیمت بڑھتے بڑھتے آخرکار 5 لاکھ درہم تک جا پہنچی۔
محمد المنہالی کا کہنا تھا کہ اعلیٰ نسل کے اونٹ ہمیشہ سب سے زیادہ قیمت پر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس نسل کے اونٹ پر مزید بولی لگانے کے لیے بھی تیار تھے کیونکہ وہ اس نسل کو حاصل کرنے کے خواہشمند تھے۔
تاہم رات کی سب سے زیادہ بولی جیتنے کے باوجود زیادہ تر اونٹ 14 سالہ حمدان الکعبی نے حاصل کیے جنہوں نے چار اونٹ خریدے۔ نویں جماعت کا طالبعلم حمدان اپنے چچا اور بھائیوں کے ساتھ سب سے پہلے نیلامی میں پہنچا اور مسلسل بولیاں لگا کر کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے خاندان کے پاس العین میں 85 کے قریب اونٹ ہیں جنہیں وہ 2016 سے پال اور ریس میں شامل کر رہے ہیں۔
حمدان کے چچا حماد کے مطابق ان کا خاندان ہر نیلامی میں تین سے پانچ اونٹ ضرور خریدتا ہے۔ وہ اونٹوں کی تربیت خود دیکھتے ہیں اور نسل، ہڈیوں اور ساخت سے ان کی قابلیت پہچان لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اونٹنی کا دودھ بیچنا باعث شرم سمجھا جاتا ہے، اس لیے وہ صرف دوسروں کو دیتے ہیں۔
اہم لمحات میں ایک بار حمدان نے زعفرانہ نسل کی ایک بچی اونٹنی خریدی تھی جسے تین سال تک بیچنے کے بجائے پالتو جانور کی طرح رکھا۔ بعد میں جب اس نے ریس میں حصہ لیا تو پہلی ہی دوڑ میں کامیاب رہی اور پھر 20 لاکھ درہم میں فروخت ہوئی۔







