خلیج اردو
16 اکتوبر 2020
نئی دہلی: بھارت میں ایک شخص نے عدالت میں شکایت درج کی ہے کہ اس کی بیوی کو ریپ ویکٹم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جبکہ اس کی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔ میری بیوی کو یوپی ہتھراس ریپ ویکٹم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
دہلی ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس ناوین چاولہ نے حکومت کو ہدایت جاری کی اگر سائل کا موقف درست ہے تو حکومت اس حوالے سے کارروائی کریں اور اس حوالے سے گوگل ، فیس بک ، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ضروری ہدایات جاری کریں۔
عدالت نے وزارت الکٹرونکس اور انفامیٹیو ٹیکنالوجی کو ہدایت جاری کی ہے کہ اگر سائل کا موقف درست ہے تو اگلی سماعت تک ضروری کارروائی کی جائے۔ عدالت نے اس شخص کو ضروری شواہد اور دستاویزات وزارت کو دینے کی ہدایت کر دی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اس کی مری ہوئی بیوی کی تصویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا ہے اور اسے جنسی زیادتی کا شکار عورت قرار دیا جارہا ہے۔
ٹویٹر ، فیس بک اور گوگل سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا موقف تھا کہ ایسا کرنا قانونی جرم ہے اور اگر بات درست ثابت ہوتی ہے تصاویروں کو پلیٹ فارم سے ہٹایا جائے گا۔
Source : Khaleej Times







