
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وفاقی سپریم کورٹ نے خاتون کے قتل اور ایک شخص کو قتل کرنے کی کوشش کے مقدمے میں سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھنے والا اپیل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس نئی سماعت کے لیے مختلف بینچ کو واپس بھیج دیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم پر تین الزامات عائد کیے گئے تھے جن میں منصوبہ بندی کے تحت ایک خاتون کا قتل، ایک شخص کو قتل کرنے کی کوشش اور مقتولہ کے ساتھ ناجائز تعلقات کا الزام شامل تھا۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نے واردات کی منصوبہ بندی کے بعد ایک نوکیلی قینچی خریدی، اسے چھپا کر رکھا اور رہائشی عمارت کی چھت کی سیڑھیوں میں خاتون کے اکیلے آنے کا انتظار کیا، جہاں اس نے قینچی کے متعدد وار کرکے خاتون کو قتل کر دیا۔ بعد ازاں ایک اور شخص پر بھی تیز دھار آلے سے حملہ کیا، تاہم وہ طبی امداد ملنے کے باعث زندہ بچ گیا۔
ٹرائل کورٹ نے قتل کے جرم میں ملزم کو قصاص کے تحت سزائے موت، اقدامِ قتل پر عمر قید اور تیسرے الزام میں ایک ماہ قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے واردات میں استعمال ہونے والی قینچی ضبط کرنے، عدالتی اخراجات ادا کرنے اور سزا مکمل ہونے کے بعد ملزم کو ملک بدر کرنے کا بھی حکم دیا۔
بعد ازاں اپیل کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم ملزم نے وفاقی سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا قتل کا ارادہ نہیں تھا، وہ اشتعال کی حالت میں تھا اور واقعے کے وقت اس کی ذہنی کیفیت جانچنے کے لیے نفسیاتی معائنے کی درخواست بھی کی تھی۔
وفاقی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اپیل کورٹ نے ملزم کے اہم قانونی مؤقف اور نفسیاتی معائنے کی درخواست پر کوئی غور نہیں کیا اور نہ ہی انہیں مسترد کرنے کی وجوہات بیان کیں، جس سے ملزم کے حقِ دفاع کو نقصان پہنچا۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اماراتی قانون کے تحت ہر سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل وفاقی سپریم کورٹ کی لازمی نظرِثانی ضروری ہے، اور عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ ملزم کے تمام اہم قانونی نکات کا جائزہ لے کر ان پر واضح فیصلہ دیں۔
اسی بنیاد پر وفاقی سپریم کورٹ نے اپیل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ نئی سماعت کے لیے مختلف عدالتی بینچ کو واپس بھیج دیا۔







