متحدہ عرب امارات

یو اے ای کی وہ باہمت لڑکیاں جنہوں نے گھڑ سواری کے شاندار کرتب دکھا کر صدر کا دل جیت لیا

خلیج اردو
یو اے ای میں قومی دن کی تقریب کے دوران پیش کیے گئے شاندار یونین مارچ کا ایک دل موہ لینے والا لمحہ پوری قوم کے دلوں میں بس گیا، جب نوجوان اماراتی لڑکیوں نے دوڑتے گھوڑوں پر خطرناک کرتب دکھاتے ہوئے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کو سلیوٹ پیش کیا اور انہوں نے نہایت محبت سے ہاتھ ہلا کر ان کا جواب دیا۔ یہ ویڈیو چند ہی لمحوں میں وائرل ہوگئی۔

مارچ کے دوران اماراتی لڑکیاں روایتی لباس میں ملبوس، گھوڑوں پر مہارت سے کھڑی ہو کر مختلف کرتب دکھاتی رہیں۔ ان کی مہارت، جرات اور شخصیت نے اس تقریب کو یادگار بنا دیا۔

صدر یو اے ای نے تقریب کے شرکا سے ملاقات بھی کی اور اس اظہارِ اتحاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی اصل طاقت اس کے لوگ ہیں جو محبت، وفاداری اور خدمت کے جذبے کے ساتھ متحد ہیں۔

ان باہمت نوجوان لڑکیوں سے بات چیت کے دوران ان کے چہروں پر فخر نمایاں تھا۔ خلیج ٹائمز سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ اپنے لیڈرز کے سامنے پرفارم کرنا ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔

ان میں سے ایک 11 سالہ فاطمہ احمد الرمیثی ہے جو ابوظہبی کے علاقے السمحة سے تعلق رکھتی ہیں۔ فاطمہ نے بتایا کہ وہ بدوی ماحول میں پلی بڑھی ہیں جہاں وہ اپنے والد کے ساتھ روزانہ اونٹ سواری کیا کرتی تھیں، ان کے والد ایک معروف اونٹ ریس مقابلہ باز ہیں۔ فاطمہ نے چار سال کی عمر میں نجی اصطبل میں گھڑ سواری شروع کی اور 2018 تک ٹریننگ لیتی رہیں جب تک کہ کووڈ کے باعث سرگرمیاں رک نہ گئیں۔

2025 کی گرمیوں میں انہوں نے دوبارہ ٹریننگ شروع کی اور بدھیب اسٹایبلز میں انہیں کیپٹن علی العامری نے دیکھا جو معروف گھڑ سوار اور کوچ ہیں۔ انہوں نے فاطمہ کی صلاحیت کو پہچان کر انہیں اپنی نگرانی میں لے لیا۔

فاطمہ کا کہنا تھا کہ وہ پرفارمنس کے دوران گھبرائی نہیں بلکہ بے حد پُرجوش تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے سب سے خوبصورت لمحہ وہ تھا جب صدر نے مسکرا کر داد دی۔ فاطمہ کے مطابق گھڑ سواری نے انہیں محنت اور ثابت قدمی سکھائی ہے اور وہ اپنی تربیت جاری رکھیں گی۔

فاطمہ نے اس پرفارمنس کے لیے مشکل ترین کرتب “اسٹینڈنگ مینُور” کی خصوصی ٹریننگ لی، جو گھوڑے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا تقاضا کرتا ہے۔

مارچ میں حصہ لینے والی دوسری باصلاحیت بہنیں لطیفہ یحییٰ الکثیری (11 سال) اور ودیمہ یحییٰ الکثیری (12 سال) تھیں جو ابوظہبی سے تعلق رکھتی ہیں۔ دونوں نے پانچ اور چھ سال کی عمر میں گھڑ سواری شروع کی۔ خوبصورت اور ذہین گھوڑوں سے لگاؤ نے انہیں اس کھیل میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ والدین نے بھی ان کے شوق کی حوصلہ افزائی کی۔

یہ دونوں بہنیں وقت کے ساتھ ساتھ ایونٹس میں شرکت کرتی رہیں اور مختلف گھوڑوں کو سنبھالنے کی مہارت حاصل کر لی۔ بعد ازاں وہ شو جمپنگ میں داخل ہوئیں اور اپنے پہلے ہی دو مقابلوں میں پہلی پوزیشن لی۔ انہوں نے ٹرک رائیڈنگ کی مشکل تربیت بھی شروع کی اور کھڑے ہوکر گھوڑے پر کرتب دکھانے کی مہارت حاصل کی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب کچھ اپنی رول ماڈل فاطمہ العامری سے سیکھ رہی ہیں، جو گھوڑے پر کھڑے ہو کر کرتب دکھانے والی پہلی اماراتی خاتون ہیں۔

ودیمہ نے بتایا کہ وہ مستقبل میں ویٹرنیرین بننا چاہتی ہیں اور گھوڑوں کے علاج کے لیے اپنا اصطبل بنانا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق گھڑ سواری نے انہیں صبر، حوصلہ، قیادت اور خود اعتمادی سکھائی ہے۔

لطیفہ نے بتایا کہ ٹریننگ کے دوران ایک بار انہیں معمولی چوٹ لگی اور ڈاکٹر نے ایک ماہ آرام کا مشورہ دیا، لیکن صرف ایک ہفتے بعد وہ ہمت کے ساتھ واپس آئیں اور دوبارہ اسی گھوڑے پر سوار ہوئیں تاکہ خوف پر قابو پا سکیں۔

یونین مارچ میں ان کی پرفارمنس ان کی زندگی کا یادگار لمحہ تھی۔ دونوں نے کہا کہ وہ اعزاز اور فخر سے سرشار تھیں اور صدر کی آنکھوں میں اپنی بیٹیوں جیسی محبت محسوس کر رہی تھیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button