
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ جی ایل پی-ون ادویات صرف وزن کم کرنے تک محدود نہیں بلکہ دل، جگر، گردوں اور میٹابولک صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ نئی طبی تحقیق اور مقامی کلینیکل تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ ادویات مختلف دائمی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
ابوظبی کے Sheikh Shakhbout Medical City میں اینڈوکرائنولوجی اور موٹاپا میڈیسن کی ماہر ڈاکٹر جولی شاہ نے کہا کہ جی ایل پی-ون ریسیپٹر ایگونسٹ ادویات دل کی سوزش کم کرتی ہیں، جس سے دل کے دورے، فالج اور ہارٹ فیل ہونے کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ادویات خون میں شوگر کے توازن کو بہتر بناتی ہیں اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے آغاز یا اس کی شدت میں کمی لا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سیمی گلوٹائیڈ اور ٹرزیپاٹائیڈ جیسی ادویات، جو ابتدا میں ذیابیطس کے علاج کے لیے متعارف کرائی گئی تھیں، اب وزن میں کمی کے ساتھ ساتھ دل، گردوں اور جگر کے امراض میں بھی فائدہ مند نتائج دکھا رہی ہیں۔
دبئی میں قائم Metabolic کی تحقیق و آپریشنز منیجر ہالا زکریا نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ان ادویات کے استعمال کا دائرہ وسیع ہوا ہے اور اب انہیں دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے، گردوں کے تحفظ اور جگر کی بعض بیماریوں کے علاج میں بھی مؤثر سمجھا جا رہا ہے۔
ادارے کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ذیابیطس، پری ڈائیبیٹیز اور موٹاپے کے پروگراموں میں شامل ہزاروں مریضوں میں نہ صرف وزن کم ہوا بلکہ کولیسٹرول، ٹرائی گلیسرائیڈز، جگر کے افعال اور خون میں شوگر کی سطح میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
برازیل سے تعلق رکھنے والی اماراتی رہائشی شیلا سانچیز نے بتایا کہ چار سال کے دوران ان کا وزن 40 کلوگرام سے زائد کم ہوا، جبکہ انسولین مزاحمت، پری ڈائیبیٹیز، بلند کولیسٹرول اور فیٹی لیور جیسی صحت کی پیچیدگیاں بھی ختم ہو گئیں۔ ان کے بقول سب سے خوش کن لمحہ یہ تھا کہ وہ صرف وزن نہیں گھٹا رہیں بلکہ اپنی صحت دوبارہ حاصل کر رہی تھیں۔
دبئی میں مقیم فرانسیسی کاروباری شخصیت صوفیان نے بھی بتایا کہ جی ایل پی-ون علاج کے بعد ان کی خوراک کی غیر معمولی خواہشات ختم ہو گئیں، جبکہ فیٹی لیور، کولیسٹرول اور دیگر طبی مسائل میں نمایاں بہتری آئی۔ ان کا وزن 132 کلوگرام سے کم ہو کر 91 کلوگرام رہ گیا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کا استعمال صرف طبی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق خود سے دوا لینا یا صرف ظاہری وزن کم کرنے کے لیے استعمال کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ متوازن غذا، ورزش اور مناسب نیند کے بغیر بہترین نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔







