متحدہ عرب امارات

دبئی میں صبح کی دوڑیں اور برف والے ورک آؤٹس: شدید گرمی میں فٹنس کے شوقین افراد کا نیا انداز

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں گرمیوں کے دوران فٹنس کے شوقین افراد نے اپنی ورزش کے اوقات اور طریقہ کار کو بدل کر شدید گرمی کا مقابلہ کرنے کے نئے انداز اختیار کر لیے ہیں۔ جہاں درجہ حرارت باقاعدگی سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، وہیں کچھ لوگ طلوع آفتاب سے پہلے دوڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ دیگر برف والے ورکس آؤٹس جیسے آئس باتھ کا حصہ بن رہے ہیں۔

سابق بین الاقوامی اسپرنٹر اور دبئی میں مقیم کوچ ڈینیئل اوڈیرنڈے کا کہنا ہے کہ گرمی لوگوں کو ورزش سے نہیں روکتی بلکہ انہیں وقت اور طریقہ کار بدلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ "میں نے دیکھا ہے کہ گرمی کے موسم میں لوگ ورزش بند نہیں کرتے بلکہ اس کا وقت اور انداز بدل لیتے ہیں،” انہوں نے کہا۔

اوڈیرنڈے نے بتایا کہ وہ خود صبح سویرے یا شام دیر سے دوڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ "میں اکثر صبح کے وقت، جب سورج مکمل طور پر نہیں نکلا ہوتا، دوڑنے جاتا ہوں جیسا کہ گری ڈیز 5K سوشل رن، یا پھر شام کے وقت دفتر کے بعد سیشنز رکھتا ہوں۔ جب گرمی ناقابل برداشت ہو تو میں انڈور ٹریڈمل پر جا کر اپنی روٹین جاری رکھتا ہوں۔”

انہوں نے کہا کہ موسم گرما میں ورزش کا وقت بدلنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔ "صبح کی دوڑ کے لیے پچھلی رات نیند کو ترجیح دینا اور پہلے سے ہائیڈریٹ ہونا ضروری ہے۔ شام کے سیشنز کیلئے دن بھر کھانے اور پانی کی مقدار پر نظر رکھنی پڑتی ہے تاکہ کرمپنگ سے بچا جا سکے اور جسم کارکردگی کے لئے تیار رہے۔”

ورزش کے معمول میں نمایاں تبدیلی

دبئی کے ویلنیس سینٹر "بریزی” کی بانی جولیئن خوری کے مطابق موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ورزش کے معمولات میں ایک "واضح تبدیلی” دیکھنے میں آئی ہے۔ "لوگ صبح کے وقت کے ٹھنڈے اوقات سے فائدہ اٹھانے کے لیے جلد شروع ہونے والے سیشنز کو ترجیح دے رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔

خوری کے مطابق، بریزی نے بھی اپنے اوقات کار میں تبدیلی کر کے اس طلب کا جواب دیا ہے۔ "ہم نے اپنی آؤٹ ڈور سرگرمیوں جیسے یوگا، جم ورک آؤٹس، اور رن کلب کو صبح کے وقت منتقل کر دیا ہے۔ ہماری شام کے سیشنز بھی اب کچھ دیر بعد شروع ہوتے ہیں اور اختتام پر ریفریشنگ کولڈ پلنج شامل کیا گیا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوں میں فطری طور پر لوگ تعطیلات کے باعث وقفہ لیتے ہیں، اس لیے ادارے نے زیادہ لچکدار اور کم روٹین اپنائی ہے تاکہ اراکین سفر کے بعد با آسانی اپنی روٹین بحال کر سکیں۔ بریزی کے مشہور "فلوٹنگ برتھ ورک سیشنز” اب گرمیوں میں دو ہفتے میں ایک بار اورا اسکائی پول پر منعقد کیے جا رہے ہیں۔

برف والے ورک آؤٹس کی مقبولیت

فٹنس کمپنی "جم نیشن” نے گرمیوں کے دوران ایک منفرد ورزش سیشن کا انعقاد کیا جسے "دبئی کی سب سے ٹھنڈی کلاس” قرار دیا گیا۔ یہ تجربہ موٹر سٹی برانچ میں ہر ہفتے کے روز جولائی کے مہینے میں کرایا گیا، جس میں آئس اور بڑے پنکھوں کے ساتھ ورک آؤٹس شامل تھے۔

ان سرگرمیوں میں "بلزڑ سپرنٹس” شامل تھیں جس میں شرکاء کو ٹریڈمل پر بڑے پنکھوں کے خلاف دوڑنا پڑتا تھا۔ "پولر پش” میں آئس بلاکس کے ساتھ سلج پش کرنا شامل تھا جبکہ "گلیشئر گرپ چیلنج” میں برف سے بھرے بالٹیوں کے ساتھ فارمر کیری کی مشق کروائی گئی۔

کمپنی کے چیف مارکیٹنگ آفیسر روری میک اینٹی کے مطابق ان منفرد کلاسز کو عوام نے بے حد پسند کیا۔ "کلاسز اتنی تیزی سے بُک ہو گئیں کہ ہمیں قرعہ اندازی کا نظام نافذ کرنا پڑا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شرکت کا موقع دیا جا سکے،” انہوں نے کہا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر اضافی سیشنز کا انعقاد زیر غور ہے تاکہ مزید افراد کو اس منفرد تجربے کا حصہ بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button