
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کے اسپتالوں میں دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کی ایک بڑی تعداد نوجوان طبقے پر مشتمل ہے اور تقریباً نصف ہارٹ اٹیک کے مریضوں کی عمر 50 سال سے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں دل کی بیماریوں کے بڑھتے رجحان کو فوری طور پر سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔
عالمی سطح پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا میں پہلی بار دل کے دورے کی اوسط عمر 5 سے 10 سال کم ہو گئی ہے جبکہ یو اے ای کے رہائشیوں میں امراض قلب دیگر ممالک کے مقابلے میں اوسطاً 15 سال پہلے سامنے آ رہے ہیں۔
ایک حالیہ کیس میں 35 سالہ اماراتی مریض دبئی کے اسپتال پہنچا جہاں علامات ابتدائی طور پر عام معائنے میں ظاہر نہ ہو سکیں، تاہم جدید ٹیسٹ کے بعد اس کے دل کے مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ مریض کا کہنا تھا کہ وہ سگریٹ نوش یا ذیابیطس کا مریض نہیں ہے لیکن موٹاپا، کولیسٹرول کی کمی اور خاندانی پس منظر جیسے عوامل اسے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ڈاکٹر غسان نکاد، میڈ کیئر اسپتال کے ماہر امراض قلب کے مطابق دنیا بھر میں 10 سے 30 فیصد تک دل کے مریض کم عمر افراد ہوتے ہیں لیکن یو اے ای میں یہ شرح تقریباً 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ سال میڈ کیئر نیٹ ورک میں 11,631 مریضوں میں سے تقریباً 9,817 کی عمر 45 سال یا اس سے کم تھی جن میں سے 30 فیصد میں مزید ٹیسٹ ضروری قرار پائے اور 3 فیصد مریضوں میں سنگین امراض کی تصدیق ہوئی۔
ماہرین نے اس تشویشناک صورتحال کی بڑی وجوہات میں غیر صحت مند طرز زندگی، ناقص غذائی عادات، ذہنی دباؤ، ورزش کی کمی، سگریٹ نوشی اور ویپنگ کو قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر جارجی تھامس اور ڈاکٹر یاسر پرویز کے مطابق نوجوانوں میں یہ تصور عام ہے کہ وہ دل کے امراض سے محفوظ ہیں، لیکن موجودہ طرز زندگی تیزی سے جسمانی صحت کو متاثر کر رہا ہے۔
اس بڑھتے خطرے کے پیش نظر اسپتالوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹیسٹ متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ میڈ کیئر اسپتال نے "کارڈیو ایکسپلورر” ٹیسٹ لانچ کیا ہے جو 95 فیصد سے زیادہ درستگی کے ساتھ امراض قلب کے خدشے کی نشاندہی کرتا ہے اور روایتی پیچیدہ طریقہ علاج کے بجائے سادہ بلڈ ٹیسٹ اور بنیادی معائنے کے ذریعے مریضوں کے لیے ابتدائی اقدامات کا موقع فراہم کرتا ہے۔







