
خلیج اردو
ابوظہبی: محکمہ تعلیم نے ابوظہبی میں تدریسی عملے کے لیے نیا کوڈ آف پروفیشنل ایتھکس (ضابطہ اخلاق) نافذ کر دیا ہے جس میں متعدد ممنوعہ رویوں کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے تاکہ اسکولوں میں پیشہ ورانہ اور اخلاقی معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کوڈ کا مقصد طلبہ، عملے اور تعلیمی برادری کو تحفظ فراہم کرنا اور احترام، دیانتداری اور پیشہ ورانہ رویے کو فروغ دینا ہے۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو سنگین قانونی اور انتظامی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزارت تعلیم کے مطابق ممنوعہ رویوں میں مذہب، نسل، عمر، جنس، یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیاز برتنا، ہراسانی، انتہا پسندی، نسل پرستی یا بدسلوکی کو فروغ دینا شامل ہے۔ حاملہ یا زچگی کے بعد خواتین ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک، غیر موزوں لباس پہننا، زبانی یا جسمانی ہراسانی، جھوٹی افواہیں پھیلانا، خفیہ معلومات افشا کرنا اور پیشہ ورانہ قابلیت کو غلط ظاہر کرنا بھی ممنوعہ اقدامات میں شامل ہیں۔
مزید برآں، کوڈ میں یو اے ای کی قومی شناخت اور ثقافتی اقدار کے فروغ پر زور دیا گیا ہے اور تمام اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مختلف مذہبی، نسلی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے افراد کے ساتھ احترام سے پیش آئیں۔
اس ضابطہ اخلاق کو اسکولوں میں بھرتی کے عمل، اورینٹیشن ویک، تربیتی پروگرامز اور پیشہ ورانہ ترقی (CPD) کے ذریعے مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق عملے کے ہر رکن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ ذمہ داریوں میں ان اصولوں پر عمل کریں۔
HR منیجرز اور پرنسپل صاحبان نے بتایا کہ اسکولوں میں ٹیم ورک، مینٹورشپ، حفاظتی پالیسیوں اور ویلبیئنگ کمیٹیوں کے ذریعے اس کوڈ کو فعال کیا جا رہا ہے۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر مختلف سطح کے اقدامات کیے جائیں گے جن میں مشاورت، دوبارہ تربیت سے لے کر باضابطہ تادیبی کارروائی تک شامل ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں کو براہ راست ابوظہبی محکمہ تعلیم و علم (ADEK) کے پاس رپورٹ کیا جائے گا۔







