متحدہ عرب امارات

ابو ظہبی میں نئے ٹریفک قوانین اور جرمانوں کا اعلان کر دیا گیا

خلیج اردو آن لائن:

اگر آپ ابوظہبی کے رہائشی ہیں اور خود سے اپنی گاڑی چلاتے ہیں تو ابوظہبی حکام کی جانب سے نافذ کیے جانے والے ٹریفک قوانین سے آگاہی آپ کے لیے از حد ضروری ہے۔
بدھ کے روز ابوظہبی حکام کی جانب سے نئے ٹریفک قوانین کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان قوانین کے مطابق اب پولیس کی گاڑی کے ساتھ ٹکر ہونے، غیر قانونی ریسنگ، اور اصل نمبر پلیٹ کے بغیر گاڑی چلانے کی صورت میں اب آپ کی گاڑی ضبط کی جاسکتی ہے۔
ان خلاف ورزیوں کے باعث 50 ہزار درہم جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
مزید خلاف ورزیاں جن کے باعث آپ کی گاڑی ضبط ہو سکتی ہے:

درج بالا خلاف ورزیوں کے علاوہ کچھ اور ایسی خلاف ورزیاں بھی نئے قانون میں شامل کی گئی ہیں جن کی وجہ سے آپ کی گاڑی ضبط کی جا سکتی ہے۔ جو درج ذیل ہیں:

  • 10 سال سے کم عمر بچے کو اگلی نشست پر بیٹھانے کی صورت میں
  • تیزر رفتاری کی وجہ سے کسی حادثے کا سبب بننے کی صورت میں
  • گاڑی کو گھومانے یا دوسری گاڑی کے بلکل ساتھ لگانے کی صورت میں
  • اور پیدل چلنے والوں کو رستہ نہ دینے کی صورت میں آپ کی گاڑی بند یا ضبط کی جا سکتی ہے۔ اور 5 ہزار درہم جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
  • ٹریفک سگنل توڑنے اور غیر محتاط ڈرائیونگ کی صورت میں بھی گاڑی ضبط ہو سکتی ہے اور 50 ہزار درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اور ٹریفک سگنل توڑنے کے جرم میں ڈرائیونگ لائسنس چھ ماہ کے لیے معطل کیا ہو سکتا ہے۔

مزید برآں، نئے ٹریفک قانون کے مطابق 7 ہزار درہم سے زائد جرمانہ ہو جانے کی صورت میں بھی گاڑی ضبط ہو سکتی ہے۔

جمعرات کے روز سینٹرل آپریشنز سیکٹر کے ڈائریکٹر بریگیڈ سہیل سعید الخیلی نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ ابوظہبی پولیس نے یہ نیا فیصلہ جامع تحقیق کے بعد لیا ہے۔ جس کا مقصد ڈرائیوروں میں غیر ذمہ دارانہ رویے کو ختم کرنا اور روڈز کو سب کے لئے محفوظ بنانا ہے۔
حکام نے وضاحت کی ہے کہ ضبط کی گئی گاڑیوں کی تین ماہ بعد ناقابل دعویٰ ہو جائیں گیں، اور انکی  نیلامی کر دی جائے گی۔ اور اگر گاڑی کی قیمت جرمانے سے کم ہوئی تو بقیہ رقم کو مجرم کی ٹریفک فائل میں شامل کردی جائےگی اور خلاف ورزی منسوخ نہیں ہوگی۔ برگیڈٰیئر الخیلی نے وضاحت کی کہ” گاڑیوں کو ضبط کرنے کے حوالے سے نئے قوانین وفاقی نہیں ہیں بلکہ یہ قوانین صرف ابوظہبی کے لیے ہیں۔”۔
تاہم ضبط کی گئی گاڑیاں جرمانے ادا کرنے کے بعد ضبطگی کے دورانیے کے بعد چھوڑی جائیں گیں۔

درج بالا خلاف ورزیاں حادثات کا باعث ہیں:

برگیڈیئر اخیلی کا کہنا تھا کہ درج بالا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے گزشتہ سال 894 حادثات پیش آئے جن میں 66 افراد جانبحق ہوئے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ 2019 میں 35 اشاریہ 5 فیصد حادثات لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے کی وجہ سے پیش آئے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button