دبئی میں نائیجیریا کی خاتون نے چار بچوں کو جنم دیا مگر اسپتال کا خرچہ اسکی استعدادسے باہرہے۔
خاتون وطن واپس جانے کے انتظار میں تھی مگر اسکو کوئی فلائٹ نہیں ملی اور یہ ہی اس کا میڈیکل انشورنس ہے۔
29 سالہ سلیق عبد الکریم کا بدھ کی رات دبئی کے ایک سرکاری اسپتال سیکشن سی کے تحت بچے ہوئے۔ والدہ اور بچے محفوظ اور صحت مند ہیں۔ ان کے شوہر 33 سالہ سجیانی اڈیگون شکیرو نے بتایا ۔
شیف کے طور پر کام کرنے والے شکیرو نے کہا ، "میں یہ بتانا بھی نہیں چاہتا کہ میں کتنا خوش ہوں۔ میں خوش قسمت آدمی ہوں کہ مجھے چار خوبصورت بچوں کا باپ بن گیا ہوں "۔
"وہ دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ ہم لڑکوں کا نام فخر اور السی اور لڑکیوں کا نام سشے اور المونک رکھیں گے۔” والد نے کہا۔
اس کیس میں شریک ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ والدہ ٹھیک رہی ہیں اور ان بچوں کو انکیوبیٹر میں رکھا گیا ہے کیونکہ ان کہ قبل از وقت ولادت ہوئی ہے۔
شکیرو نے بتایا کہ وہ اس وقت ملازمت میں تھے جب ان کی اہلیہ کو تکلیف محسوس ہوئی ۔ "وہ خود ٹیکسی لے کر اسپتال گئی۔اور ڈاکٹر فورا اس کے پاس حاضر ہوئے اور خدا کے فضل و کرم سے انہوں نے رات 11.45 پر ڈیلیور کی۔”
لیکن نوجوان جوڑے کے لئے پہلی بار والدین بننے کی خوشی اسپتال کے بلوں کو پورا کرنے کی پریشانیوں سے دوچار ہے۔ اسپتال میں ڈاکٹروں کے مطابق ہر بچے کے لئے 1،500 درہم سے لے کر 4،000 درہم کے درمیان ہر دن لاگت آئے گی۔
"آپ ہزاروں درہم کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور میں اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔” شکیرو نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دبئی کے ایک ریستوران میں شیف کی حیثیت سے 3 ہزار درہم کماتے ہیں اور کوویڈ ۔19 کی صورتحال کی وجہ سے ان کی باقاعدہ آمدنی نہیں ہوتی۔
"میری اہلیہ کی بھی چند ماہ قبل کلینر کی نوکری چلی گئی۔ ہم پروازوں کا شدت سے انتظار کر رہے تھے تاکہ وہ ڈلیوری کی تاریخ سے پہلے نائیجیریا واپس جاسکیں لیکن یہ تقریبا ناممکن تھا۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں۔ "مجھے امید ہے کہ خدا مجھے کوئی راستہ دکھائے گا ،” شکیرو نے کہا
Source :Khaleej Times







