متحدہ عرب امارات

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف۔بی۔آئ کا دبئی پولیس کو خراج تحسین۔

ایف۔بی۔آئ نے دنیا کے دو مشہور جعل سازوں"Hushpuppi" اور "WoodBerry" کی گرفتاری و حوالگی پر دبئی پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

(خلیج اردو ویب ڈیسک) امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے متحدہ عرب امارات اور دبئی پولیس کو ‘Hushpuppi کے نام سے مشہور ریمنڈ عباس کی گرفتاری میں غیر معمولی کوششوں اور تعاون پر سرکاری طور پر شکریہ ادا کیا ہے ، اور آپریشن ‘فاکس ہنٹ 2’ میں اولایکان جیکب پونلے ‘WoodBerry‘ کو گرفتار کیا ہے.

ڈائریکٹر ایف بی آئی ، کرسٹوفر وائے نے متحدہ عرب امارات اور دبئی پولیس کی بین الاقوامی منظم سائبر کرائم کا مقابلہ کرنے کی غیر معمولی کوششوں کی تعریف کی۔

انہوں نے مطلوب مجرموں کی حوالگی میں تعاون کرنے پر دبئی پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

آپریشن فاکس ہنٹ 2 

حال ہی میں ، دبئی پولیس نے ‘فاکس ہنٹ 2’ کے نام سے ایک خصوصی کارروائی کے دوران ، دو مطلوب جعل سازوں ، ‘HushPuppy‘ اور ‘WoodBerry‘ کے ساتھ دس دیگر افریقی سائبر مجرمان کو بھی گرفتار کیا۔

اس کارروائی کی وجہ ملزمان کامتحدہ عرب امارات سے باہر جرائم میں ملوث ہونا تھا، جس میں منی لانڈرنگ ، سائبر فراڈ ، ہیکنگ ، مجرمانہ نقالی ، بینکاری کی دھوکہ دہی اور شناخت کی چوری شامل ہیں۔

ملزمان کو دبئی پولیس کی چھ ٹیموں نے متعدد چھاپوں کے دوران گرفتار کیا ، جنہوں نے دنیا بھر سے بہت سے لوگوں کو دھوکہ دینے اور ان کی رقم چوری کرنے کے لئے اس گروہ کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

دبئی سی آئی ڈی کے ڈائریکٹر ، بریگیڈیئر جمال سالم الجلف نے بتایا کہ اس چھاپے کے نتیجے میں عالمی سطح پر 1.6 بلین درہم (435 ملین ڈالر) مالیت کے جعلی سازی منصوبوں کی دستاویزات ہاتھ لگی ہیں۔

اس ٹیم نے 150 ملین درہم(40.9 ملین ڈالر) سے زیادہ کی نقدی ، 13 قیمتی کاریں بھی ضبط کیں جن کی تخمینی قیمت 25 ملین درہم(8 6.8 ملین دالر) جو کہ دھوکہ سے حاصل کی گئ رقم سے خریدی گئیں۔اس کے علاوہ 21 کمپیوٹر ڈیوائسز ، 47 اسمارٹ فونز ، 15 میموری اسٹکس ، پانچ ہارڈ ڈسک ضبط کرلی گئیں جن میں 119,580 دھوکہ دہی کی فائلز اور 1,926,400 متاثرین کے پتے شامل ہیں۔

مزید تفتیش کرنے اور ضبط شدہ الیکٹرانک آلات کا تجزیہ کرنے کے بعد ، دبئی پولیس کے تفتیش کاروں نے ملزمان کے ذریعہ بیرون ملک مقیم افراد اور کمپنیوں پر بنائی گئی حساس معلومات کا انکشاف کیا جن میں بینک اکاؤنٹس اور جعلی کریڈٹ کارڈز کے ساتھ ساتھ دستاویزات اور فائلیں بھی شامل ہیں جو ان کی غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی تھیں۔
Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button