متحدہ عرب امارات

یہاں کوئی حد نہیں’ — دبئی کا کھانوں کا منظرنامہ کیوں ناقابلِ نقل ہے؟

خلیج اردو
دبئی – 22 مئی 2025 کو MICHELIN گائیڈ دبئی کی چوتھی اشاعت نے شہر کو ایک عالمی فوڈ کیپیٹل کے طور پر مزید مضبوطی سے پیش کیا۔ اس سال گائیڈ میں 119 ریستوران شامل کیے گئے جو 35 سے زائد اقسام کے کھانے پیش کرتے ہیں۔ ان میں دو ریستورانوں کو نیا ون اسٹار، دو کو تین MICHELIN اسٹارز اور پانچ کو Bib Gourmand اعزازات دیے گئے۔

یہ اعزازات صرف ذائقے کا اعتراف نہیں بلکہ ایک ایسے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں دبئی عالمی معیار پر کھانے کے میدان میں اپنی انفرادیت منوا رہا ہے — چاہے وہ عالمی شہرت یافتہ ریستوران ہوں یا محلے کے سادہ مگر ذائقہ دار گوشے۔

معیار، مقصد اور جُرات مند خیالات کا امتزاج

دبئی میں ریستوران صرف کھانے کی جگہ نہیں بلکہ تجربات کا مرکز بن چکے ہیں۔ Atelier House Hospitality کی CEO، پنچالی مہندرا کہتی ہیں، "یہاں کے صارفین باشعور، عالمی رجحانات سے آگاہ، اور جدت کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس واضح شناخت اور کہانی ہو تو آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔”

ہمیشہ جدت کی تلاش میں

Lapita Dubai Parks & Resorts کے F&B ڈائریکٹر، سرجیو سلوا کے مطابق، “دبئی وہ جگہ ہے جہاں روز کچھ نیا ہوتا ہے۔ صارفین نہ صرف نئے کھانوں کے متلاشی ہیں بلکہ وہ ہر بار ایک نئے تجربے کی امید بھی رکھتے ہیں۔”

ریستورانوں میں عالمی شہرت یافتہ شیفس، فیوژن کھانے، اور انٹرایکٹو فارمیٹس کے ذریعے دبئی نے نہ صرف پیرس، لندن اور نیویارک جیسے شہروں کو چیلنج کیا بلکہ کئی حوالوں سے پیچھے بھی چھوڑ دیا ہے۔

کھانے کی دنیا میں کہانی سنانا بھی اہم

LSL Capital کی بانی، سامیوکتا نائر کہتی ہیں، "دبئی میں ہر ریستوران ایک داستان بیان کرتا ہے — چاہے وہ ڈیزائن میں ہو، سروس میں، یا کھانے میں۔ یہاں آزادی ہے، جو دنیا کے بہت کم شہروں میں ملتی ہے۔”

دبئی: عالمی کھانوں کا نیا دارالحکومت

پچھلے پانچ برسوں میں دبئی نے کھانوں کے شعبے میں جو سرمایہ کاری کی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شہر کو حال ہی میں پیرس کے بعد دنیا کا دوسرا بہترین فوڈ ڈیسٹینیشن قرار دیا گیا ہے۔

“ہم نے درآمدی برانڈز سے آگے بڑھ کر مقامی ٹیلنٹ کو سپورٹ کرنا شروع کیا ہے۔ MICHELIN گائیڈ اور MENA’s 50 Best نے ثابت کر دیا کہ دبئی صرف تماشا نہیں بلکہ معیاری اور تخلیقی کھانوں کا گہوارہ بن چکا ہے۔”

شہریوں کی پسند بدل رہی ہے

MasterChef India کی فائنلسٹ اور Acme Hospitality کی ڈائریکٹر، کرشمہ سکھرانی کہتی ہیں، “ہم نے دبئی کو اس لیے چُنا کیونکہ یہ شہر ایک ثقافتی اور ذائقے کے بیداری کے دور سے گزر رہا ہے۔ لوگ اب یہاں رہنے، جُڑنے اور کچھ نیا کرنے آتے ہیں۔”

رجحانات کی نئی سمت

Chef Rahul Rana (Avatara Dubai) کہتے ہیں، “لوگ اب صرف کھانے کے ذائقے سے خوش نہیں ہوتے، وہ ایک مکمل جذباتی تجربہ چاہتے ہیں۔ پائیداری، پلانٹ بیسڈ مینو اور صاف ذرائع سے آنے والے اجزاء اب مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔”

Fagor Professional کے شیف ترن پنجوانی کے مطابق، "پرائیویٹ سپر کلبز اور دو شیفس کے ساتھ منعقدہ ‘فور ہینڈز ڈنر’ جیسے تجربات 2025 میں مقبول ترین رجحان ہیں۔ دبئی کا مطلب ہے ڈیجیٹل سہولت — جو چاہو، جب چاہو، کلک پر دستیاب ہے۔”

مستقبل کی جھلک

دبئی کا فوڈ کلچر اب صرف درآمدی برانڈز پر نہیں بلکہ مقامی تخلیق پر مبنی ہے۔ Chef Himanshu Saini نے Tresind Studio کو تین MICHELIN اسٹارز ملنے کے موقع پر کہا، “یہ ریستوران صرف دبئی میں ہی ہو سکتا ہے، کسی اور جگہ نہیں۔”

یہ وہ مقام ہے جہاں ہر ذائقہ نہ صرف جگہ پاتا ہے بلکہ نئے انداز میں نکھرتا ہے، اور یہی دبئی کو ناقابلِ نقل بناتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button