
خلیج اردو
دبئی – مرینا پیناکل ٹاور میں گزشتہ ہفتے لگنے والی آگ سے بے گھر ہونے والے تقریباً 350 رہائشیوں کو ایک اور صدمے کا سامنا ہے۔ جہاں وہ پہلے اپنا گھر کھو بیٹھے، وہیں اب انہیں عارضی قیام گاہیں بھی جمعہ 20 جون دوپہر تک خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے — بغیر کسی متبادل بندوبست کے۔
متاثرہ رہائشیوں کو سمایا ہوٹل اپارٹمنٹس وادی السفا 3، سمایا ہوٹل دیرہ، اور ملینیئم البرشاء میں ٹھہرایا گیا تھا۔ بدھ کی شام انہیں دروازوں کے نیچے نوٹس موصول ہوئے، جس میں لکھا تھا:
"ہم یاد دہانی کرواتے ہیں کہ آپ کا آخری دن 20 جون 2025 ہے اور چیک آؤٹ وقت دوپہر 12 بجے ہے۔”
یہ نوٹس بنات المستقبل اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دیا گیا، جو مرینا پیناکل (جسے ٹائیگر ٹاور بھی کہا جاتا ہے) کی منتظم ہے۔
رہائشیوں کو 18 جون کو ای میل بھی موصول ہوئی، جس میں واضح کیا گیا کہ عارضی رہائش "آگ لگنے کی تاریخ سے صرف پانچ دن کے لیے” فراہم کی گئی ہے اور اس مدت کے بعد "کوئی متبادل رہائش دستیاب نہیں۔” ای میل میں مزید مدد کی پیشکش تو کی گئی، مگر کوئی واضح اقدام نظر نہیں آیا۔
خوف، بے یقینی اور خاموشی
جمعرات کی شام خلیج ٹائمز کے نمائندے نے وادی السفا 3 میں سمایا ہوٹل اپارٹمنٹس کا دورہ کیا، جہاں بے چینی اور تھکن کی فضا غالب تھی۔ لابی میں لوگ عطیہ کردہ کپڑوں اور سامان میں سے ضروری اشیاء چن رہے تھے، جبکہ کئی افراد چپ چاپ بیٹھے کسی خبر کے منتظر تھے۔
کئی افراد باہر نکلنے سے بھی گھبرا رہے تھے کہ کہیں ان کے کمرے کے کارڈز بند نہ کر دیے جائیں۔ بیشتر متاثرین نے تصاویر لینے سے انکار کیا، کیونکہ ان کے خاندانوں کو ابھی تک ان کی حالت کا علم نہیں، یا ذاتی وجوہات کی بنا پر۔
خاندانوں کی تقسیم، بے بس زندگی
روسی بزنس ویمن فریدہ فرح نے بتایا کہ ان کے شوہر، جو وہیل چیئر پر ہیں اور باقاعدہ ڈائیلاسس کرواتے ہیں، انہیں دیرہ کے ہوٹل میں رکھا گیا جبکہ فریدہ خود وادی السفا میں ہیں:
"وہ خود سے کچھ نہیں کر سکتے، پھر انہیں اکیلا کیوں رکھا گیا؟”
13 سال سے مرینا پیناکل کے 27ویں فلور پر رہنے والے امریکی شہری رافائیل ٹوریس نے کہا:
"ہم ابھی تک اس حادثے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اب یہ نوٹس۔ جیسے ہم یہاں کبھی تھے ہی نہیں۔”
ایرانی ڈاکٹر محمد، جنہوں نے ٹاور میں دو بیڈروم اپارٹمنٹ 1.2 لاکھ درہم میں کرایہ پر لیا تھا، نے بتایا کہ انہوں نے اپنی 75 سالہ والدہ کو حادثے سے چند دن قبل دبئی بلایا تھا، اور اب وہ ایک چھوٹے ہوٹل کمرے میں مقیم ہیں:
"ہم ابھی تک اس صدمے سے نکل نہیں سکے، اور اب دوبارہ دربدر کیا جا رہا ہے۔”
پاکستانی خاتون ایمن، جو واقعے کے وقت اپنے فلیٹ میں اکیلی تھیں، نے بتایا:
"بمشکل جان بچائی۔ اب شوہر تو واپس آ گئے ہیں، مگر ہم ڈر کے مارے کمرے سے باہر نہیں نکلتے۔”
الجزائر سے تعلق رکھنے والی امان اور میسا نے کہا:
"ہم کہیں نہیں جا رہے۔ ہمارے پاس کوئی اور جگہ نہیں۔ کم از کم بات کر لیتے، یوں خاموشی سے دروازے کے نیچے نوٹس کیوں دیا؟”
دیرہ میں رہنے والی مراکشی خاتون نے کہا:
"ہم سب صرف انتظار کر رہے ہیں… مگر کس کا، ہمیں خود نہیں معلوم۔”
کانگو سے تعلق رکھنے والی نینسی، جو دبئی کی پرانی رہائشی ہیں، نے کہا:
"ہم خیرات نہیں مانگ رہے، صرف چند دن اور… تاکہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔”
کمیونٹی کی مدد ناکافی، نظام خاموش
برطانوی شہری سی پی، جو واٹس ایپ گروپس کے ذریعے امدادی سرگرمیوں میں مدد کر رہے ہیں، نے کہا:
"ہم نے جتنا کر سکتے تھے کیا، مگر اب ہماری سکت ختم ہو رہی ہے۔ لوگوں کو پناہ چاہیے، اور فوری چاہیے۔”
ملینیئم البرشاء میں مقیم ایم زیڈ نے بتایا:
"وہاں بھی وہی صورتحال ہے — لوگ سوٹ کیسوں میں زندگی گزار رہے ہیں، عطیہ شدہ کھانے پر انحصار کر رہے ہیں، اور کل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔”
ایک بھارتی رہائشی نے بتایا کہ جب اس نے اپنا ٹیلی کام کنکشن ختم کرانے کے لیے کمپنی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ مرینا پیناکل میں رہتا تھا، تو کمپنی نے جرمانہ معاف کر دیا:
"یہ ہے ہمدردی۔ جو ہمیں ٹاور انتظامیہ سے نہیں ملی۔”
ایک اور بھارتی خاتون نے بتایا کہ ان کی بیٹی کے اسکول جیمز نیو ملینیئم نے نہ صرف تعلیمی مواد بھیجا بلکہ ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیا تاکہ کلاسز متاثر نہ ہوں۔
رہائشیوں کے مطابق سمایا السفا میں تقریباً 100 افراد کو 35 کمروں میں رکھا گیا ہے، ملینیئم البرشاء میں 43 کمروں میں اتنے ہی متاثرین ہیں، جبکہ سمایا دیرہ میں بھی 100 سے زائد افراد ہیں۔ کچھ کو نوبلز ٹاور، بزنس بے میں بھی عارضی طور پر ٹھہرایا گیا ہے — مگر ان افراد کو بھی نوٹس دیے جا چکے ہیں۔
زندگیاں محفوظ، مگر مستقبل بے یقینی کا شکار
دبئی میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ مرینا پیناکل کے تمام 3,820 رہائشیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا، اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔ آگ 13 جون کی شب 9:30 بجے لگی تھی اور چھ گھنٹے میں قابو پا لیا گیا۔
مگر بچ جانے والوں کے لیے مشکلات کا یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کے لیے اصل بحران اب شروع ہوا ہے — ایک نئی چھت کی تلاش۔





