
خلیج اردو
مسقط، 22 جون
سلطنت عمان نے 2028 سے سالانہ 42 ہزار عمانی ریال (تقریباً 4 لاکھ درہم) سے زائد کمانے والے افراد پر 5 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی آمدنی کے ذرائع میں تنوع لانا اور تیل پر انحصار کم کرنا ہے۔
یہ ٹیکس شاہی فرمان نمبر 56/2025 کے تحت "ذاتی آمدنی پر ٹیکس قانون” کے اجرا کے بعد نافذ ہوگا، جس کے مطابق عمان خطے کا پہلا خلیجی تعاون کونسل (GCC) ملک بن جائے گا جہاں انفرادی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک نے اگرچہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (VAT) اور کارپوریٹ انکم ٹیکس متعارف کرایا، تاہم انفرادی آمدنی پر براہ راست ٹیکس اب تک نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ یو اے ای میں تمباکو اور شوگری مشروبات پر بھی ٹیکس لاگو ہے تاکہ صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیا جا سکے۔
عمانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قانون 2028 کے آغاز سے نافذ العمل ہوگا۔ اس حوالے سے ذاتی انکم ٹیکس پروجیکٹ کی ڈائریکٹر کریمہ مبارک السعدی نے کہا ہے کہ اس ٹیکس کے نفاذ کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
نئے قانون میں سماجی فلاح کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد چھوٹ اور کٹوتیاں بھی شامل ہیں، جن میں تعلیم، صحت، وراثت، زکٰوۃ، عطیات، ذاتی رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات شامل ہیں۔
عمانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس کے نفاذ سے قبل ایک جامع مطالعہ کیا گیا، جس کے مطابق تقریباً 99 فیصد عمانی شہری اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔






