
خلیج اردو
منیلا: فلپائن اپنی خوبصورت جزیروں اور ساحلوں کے ساتھ ساتھ معدنی وسائل خصوصاً سونے سے بھی مالا مال ہے۔ کان کنی یہاں کی ایک بڑی صنعت ہے جس میں بڑے صنعتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ مقامی چھوٹے پیمانے کی کان کنی بھی شامل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 9 ملین ہیکٹر رقبہ معدنیات سے بھرپور ہے، لیکن اب تک صرف 12 فیصد علاقے کو کان کنی کے لیز پر دیا گیا ہے۔ 2024 میں فلپائن نے تقریباً 252.9 ارب پیسو (4.43 ارب ڈالر) مالیت کی معدنی دھاتیں پیدا کیں، جن میں سونا، تانبہ اور چاندی نمایاں ہیں۔ اسی سال فلپائن کے مرکزی بینک (Bangko Sentral ng Pilipinas) نے 24.95 ٹن سونا بیچا اور دنیا کا سب سے بڑا خالص فروخت کنندہ بنا۔
رائلٹی سسٹم میں لیکیج
فلپائن میں قانون کے مطابق کان کن کمپنیوں کو اپنی پیداوار کی مارکیٹ ویلیو پر 5 فیصد رائلٹی ٹیکس ادا کرنا لازمی ہے، تاہم شفافیت کی کمی اور پیداوار کو کم ظاہر کرنے کی شکایات عام ہیں۔ محکمہ خزانہ نے ایک نیا چار سطحی (1.5 سے 5 فیصد) مارجن بیسڈ رائلٹی سسٹم تجویز کیا ہے تاکہ محصولات کے ضیاع کو روکا جا سکے اور تمام کان کنی آپریشنز کو دائرہ کار میں لایا جا سکے۔
مزید برآں، حکومت "ونڈ فال پرافٹ ٹیکس” متعارف کروانا چاہتی ہے اور "رِنگ فینسنگ” کے عمل کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے ذریعے کمپنیاں ایک منصوبے کے نقصانات کو دوسرے کے منافع سے ایڈجسٹ کر کے رائلٹی سے بچ جاتی ہیں۔
مستقبل کے بڑے منصوبے
صوبہ سورگاؤ دل نورتے میں سلاگان مائن پروجیکٹ 2025 میں آغاز کرے گا جبکہ ٹمپاکان کاپر-گولڈ مائن 2026 میں متوقع ہے۔ یہ منصوبے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نکل اور توانائی کی معیشت
نکل، جو الیکٹرک گاڑیوں اور قابلِ تجدید توانائی کی بیٹریوں میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، فلپائن میں تیزی سے ترقی پا رہا ہے۔ 2024 میں ملک نے 44.97 ملین میٹرک ٹن نکل کی برآمدات کیں، جن میں سب سے زیادہ حصہ چین کو گیا۔ اگر فلپائن انڈونیشیا کی طرز پر خام نکل کی برآمد پر پابندی لگا کر مقامی پروسیسنگ پر زور دے تو یہ معیشت کے لیے نیا دور ثابت ہو سکتا ہے۔
چیلنجز اور سوالات
فلپائن کی کان کنی صنعت ایک موڑ پر کھڑی ہے:
-
کیا قوانین اور نگرانی اس دولت کو عوام کی فلاح کے لیے استعمال کر سکیں گے؟
-
ماحولیاتی اور انسانی حقوق کے مسائل کو کس طرح متوازن کیا جائے گا؟
-
اور سب سے بڑھ کر، جب لاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، تو قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والا اصل فائدہ عوام تک کب پہنچے گا؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر شفاف قوانین اور پائیدار طریقہ کار اپنائے جائیں تو فلپائن اپنی معدنی دولت کو ترقی اور خوشحالی میں بدل سکتا ہے۔







