متحدہ عرب امارات

بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی جانب سے سونے کی خریداری ایک سال تک کم کرنے کی اپیل نے ملک میں ایک بڑا اقتصادی اور سماجی بحث چھیڑ دی ہے، جس پر ماہرین، صنعت اور عوام کی آراء تقسیم ہیں۔

خلیج اردو
مودی نے اپنے سات نکاتی پیغام میں بھارتی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سونے کی خریداری سے گریز کریں تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ تاہم اس تجویز کو جیولری انڈسٹری اور صارفین کی جانب سے سخت ردِعمل کا سامنا ہے۔

آل انڈیا جیمز اینڈ جیولری ڈومیسٹک کونسل کے چیئرمین راجیش روکڑے کے مطابق اگر سونے کی طلب میں کمی آتی ہے تو اس سے زیورات کے شعبے میں کام کرنے والے ایک کروڑ سے زائد افراد کے روزگار کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

بھارت دنیا میں سونے کا دوسرا بڑا خریدار ہے، اور زیادہ تر سونا درآمد کیا جاتا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بھارت نے 72 ارب ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا، جو مجموعی درآمدی بل کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں تقریباً 50 ہزار ٹن سونا گھریلو سطح پر موجود ہے، اگر اس کا ایک حصہ بھی گولڈ مونیٹائزیشن اسکیم کے تحت استعمال کیا جائے تو درآمدات میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ اپیل عالمی معاشی دباؤ، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ سے جڑی ہوئی ہے، جو روپے کی قدر اور افراطِ زر پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت صورتحال کو واضح طور پر عوام کے سامنے رکھے تو اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ کورونا کے دوران کیا گیا تھا، ورنہ غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارتی صارفین کا سونے کی خریداری سے تعلق شادیوں، روایات اور بچت کے رجحان سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس رویے میں فوری تبدیلی کے امکانات کم ہیں۔

ماہر اقتصادیات کے مطابق اگر سونے کی درآمدات میں کمی آتی ہے تو بھارت کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو سکتا ہے، کیونکہ سونا غیر تیل درآمدات میں سب سے بڑا حصہ رکھتا ہے۔

نریندر مودی نے عوام سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ ایندھن کے استعمال میں کمی، غیر ضروری بیرون ملک سفر سے گریز، مقامی مصنوعات کے استعمال اور قدرتی کھیتی جیسے اقدامات اپنائے جائیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پالیسی تجاویز معاشی دباؤ کم کرنے کی کوشش ہیں، تاہم سونے کی صنعت اور روزگار پر اس کے ممکنہ اثرات کو لے کر خدشات برقرار ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button