متحدہ عرب امارات

اپنے والدکی یاد میں شیخ محمدجزبات پر قابو نہ رکھ سکے، 30 ویں برسی پر شیخ راشد کو زبردست خراج عقیدت

خلیج اردو
07 اکتوبر 2020
دبئی: والد وہ ہستی ہے جس کی کمی کوئی بھی پوری نہیں کر سکتا۔ شاہ ہو یا گدا ، باپ زندہ ہو تو گویا ایک سایہ دار درخت گھر میں ہے لیکن باپ کا سایہ شفقت اٹھ جائے تو بادشاہ بھی جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے۔

ایسا ہی منظر شیخ محمد بن راشد المکتوم جو دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیراعظم ہے ، کے ولد شیخ راشد بن سعید المکتوم کی 30 ویں برسی کے موقع پر دیکھنے کو ملا جب فرمانبردار بیٹے نے ولد کی محبت میں تڑپتے دل کیلئے الفاظ کا چناؤ اشعار کی صورت میں کیا۔ وہ اپنے مرحوم والد کو خراج عقید پیش کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔

شیخ محمد نے اپنے ٹویٹر پروفائل پر شیخ راشد کی تصویر لگائی اور انہیں خراج پیش کرتے ہوئے لکھا کہ شیخ راشد کیلئے چند الفاظ اور بہت سے یادیں ان کی ، وہ اپنا دن عوام کو سوچ کر شروع کرتے تھے اور اتحاد امارات کے ساتھ انتہائی مخلص تھے۔

شیخ راشد کا ویژن سمندر سے زیادہ گہرا تھا ، وہ اپنے بیوی لطیفہ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ وہ دنیا میں اپنی خدمات چھوڑ کر چلے گئے۔

باپ کے والد سے مشہور شیخ راشد نے 1958 سے 1990 تک دبئی پر حکمرانی کی۔ انہوں نے شیخ زید بن سلطاب آلنہیان کے ساتھ 1971 میں متحدہ عارب امارات کے اتحاد میں بہت موئثر اور کلیدی کردار ادا کیا۔

قائدانہ صلاحیتوں کیلئے مشہور شیخ راشد نے دبئی کو دنیا کا جدید شہر بنایا۔ 1960 میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بنیاد ڈالی ، 1972 میں شیخ راشد پورٹ ، 1978 میں دبئی ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور 1979 میں جل علی پورٹ کی بنیاد رکھی اور دبئی کو دنیا کا منفرد اور جدید شہر بنایا۔

شیخ محمد بن راشد المکتوم النہیان ، ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم سمیت اعلی حکام نے ان کی تصویر ٹویٹ اکاؤنٹ پر لگائی ہے ۔ اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے شیخ راشد کی دبئی میں مختلف افتتاح کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔

شیخ راشد کو یاد کرتے ہوئے شیخ محب نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ آپ ہماری کامیابیوں میں ہمارے ساتھ ہو، آپ کی یاد ہمیشہ ساتھ رہے گی۔ ہماری ترقی آپ کے رکھے گئے بنیاد کی مرہون منت ہے۔ آپ ایک دانشمند ، کامیاب اور محبت کرنے والے باپ ہیں۔ آپ ہمیشہ دبئی اور امارات میں ہم سب کو یاد رہیں گے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button