
خلیج اردو
دبئی: ذاتی یا خاندانی وجوہات کی بنا پر کیریئر میں وقفہ لینے والی خواتین کو دوبارہ ملازمت اختیار کرنے میں کئی مشکلات پیش آتی ہیں، جن میں اعتماد کی کمی، ہنر کے پرانے ہونے کا خدشہ اور ذاتی و پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرنا شامل ہے۔
ایکسپو سٹی دبئی کے ویمنز پویلین کی سربراہ ماہا گورٹن کے مطابق سب سے بڑی رکاوٹیں ذاتی نوعیت کی ہوتی ہیں، جیسے کہ اعتماد کو دوبارہ قائم کرنا اور اپنی صلاحیتوں کی اہمیت کو تسلیم کرنا۔ انہوں نے کہا کہ وقفہ لینے کے بعد اکثر تجربہ کار خواتین بھی اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتی ہیں، خاص طور پر تیزی سے بدلتی صنعتوں میں یہ احساس مزید بڑھ جاتا ہے۔
ماہا گورٹن نے کہا کہ بعض آجر اب بھی کیریئر میں خلا کو منفی انداز میں دیکھتے ہیں اور وقت کو تجربے پر فوقیت دیتے ہیں، جو کہ درست رویہ نہیں۔ ان کے مطابق ملازمت پر واپس آنے والی خواتین نئی توانائی، ثابت شدہ مہارتوں اور لچک کے ساتھ اداروں کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر خواتین کو صرف ہدفی اپ اسکلنگ کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے کہ ڈیجیٹل فلوئنسی بہتر بنانا، لنکڈ اِن پروفائل اپ ڈیٹ کرنا اور صنعت کے جدید رجحانات سے آگاہی حاصل کرنا۔ یہ اقدامات نہ صرف اعتماد بڑھاتے ہیں بلکہ خواتین کی ملازمت کے امکانات کو بھی بہتر بناتے ہیں۔
خاندانی ذمہ داریاں اور کام کی جگہ پر لچک کی کمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ماہا گورٹن کے مطابق خواتین ہر ہفتے اوسطاً 17 سے 34 گھنٹے غیر معاوضہ گھریلو کام کرتی ہیں، جو مردوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسے میں اگر ہائبرڈ یا ریموٹ ورک آپشنز، لچکدار اوقات کار اور معاون والدین کی چھٹیاں دستیاب نہ ہوں تو ملازمت پر واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔
متحدہ عرب امارات خواتین کو پائیدار کیریئر فراہم کرنے کے لیے کئی اقدامات کر رہا ہے۔ ویمنز پویلین کا "ریٹرن ٹو ورک پروگرام” ان نمایاں اقدامات میں شامل ہے، جو خواتین کو مہارت، اعتماد اور نیٹ ورکس فراہم کرتا ہے تاکہ وہ دوبارہ کارپوریٹ دنیا کا حصہ بن سکیں۔
یہ پروگرام ایسی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے جو لچکدار پالیسیوں کو اپناتی ہیں، تاکہ خواتین ذاتی اور معاشی دونوں سطحوں پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ ماہا گورٹن کے مطابق مقصد یہ نہیں کہ خواتین دوبارہ آغاز کریں بلکہ یہ ہے کہ وہ مضبوط آغاز کریں۔
آئندہ اس پروگرام کو مزید شعبوں تک توسیع دی جائے گی، آجر کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور شمولیت، تنوع اور قومی معیشت میں خواتین کے کردار کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔





