متحدہ عرب امارات

سعودی عرب میں شراب پر پابندی برقرار، حکام نے پابندی ختم کرنے کی خبروں کی تردید کر دی

خلیج اردو
ریاض
سعودی عرب نے شراب پر 73 سال سے عائد پابندی کو ختم کرنے سے متعلق بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے پیر کے روز ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ مملکت اسلام کے بنیادی اصولوں اور روایات پر قائم ہے، اور شراب پر پابندی بدستور برقرار رہے گی۔

یہ وضاحت ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے بعد سامنے آئی، جو گزشتہ ہفتے ایک وائن بلاگ پر شائع ہوئی تھی اور کچھ بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس کا حوالہ دے کر یہ دعویٰ کیا کہ سعودی عرب 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے تناظر میں شراب کی محدود فروخت کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، اس رپورٹ میں کسی مستند ذریعے کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

یہ خبر سامنے آتے ہی سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر شدید ردعمل اور بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا، کیونکہ مملکت کے بادشاہ کو "خادم الحرمین الشریفین” کا لقب حاصل ہے اور ملک کی شناخت اسلام کے مرکز کے طور پر ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ملک میں کئی سماجی اور اقتصادی اصلاحات کی گئی ہیں جن میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت، اور عوامی مقامات پر اختلاط کے اصولوں میں نرمی شامل ہیں، تاہم مذہبی اور ثقافتی اصولوں سے متعلق معاملات میں ریاست اب بھی سخت گیر مؤقف رکھتی ہے۔

گزشتہ سال ریاض میں ایک مخصوص اسٹور غیر مسلم سفارتکاروں کے لیے کھولا گیا تھا جہاں شراب دستیاب ہے، لیکن یہ سہولت عام شہریوں یا سیاحوں کے لیے ہرگز نہیں ہے۔

سعودی حکومت نے پہلے ہی تصدیق کر رکھی ہے کہ 2034 کا فٹبال ورلڈ کپ مکمل طور پر "سوبرینگ” یعنی بغیر شراب کے ہوگا۔ یہ پابندی نہ صرف اسٹیڈیمز بلکہ ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر بھی نافذ ہو گی۔

سعودی عرب کے برطانیہ میں سفیر شہزادہ خالد بن بندر آل سعود نے برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "ہر قوم کی اپنی ثقافت ہوتی ہے، ہم دوسروں کی میزبانی کرنے کو تیار ہیں مگر اپنی ثقافت کو تبدیل نہیں کریں گے۔”

قطر میں 2022 کے ورلڈ کپ سے قبل بھی شراب کی دستیابی ایک موضوع بحث رہی تھی، جہاں صرف مخصوص ہوٹلوں اور فین پارکس میں ہی شراب کی اجازت تھی، اسٹیڈیمز میں نہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button