متحدہ عرب امارات

شارجہ ہٹ اینڈ رن گرفتاری: ڈیش کیم اور سوشل میڈیا غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے خلاف مؤثر ہتھیار بن گئے، ماہرین

خلیج اردو
شارجہ – شارجہ میں اس ہفتے ایک تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے تین گاڑیوں کے حادثے اور پھر فرار ہونے والے ڈرائیور کو شاید یہ گمان تھا کہ وہ بچ نکلے گا، مگر سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے صرف چھ گھنٹوں میں اسے گرفتار کر لیا۔

41 سیکنڈ کی ویڈیو میں ایک سفید پک اپ ٹرک کو اچانک لین بدلتے اور تیزی سے دوسری گاڑی سے ٹکراتے ہوئے دکھایا گیا، جس کے بعد وہ گاڑی تیسری گاڑی سے جا ٹکرائی۔ ویڈیو میں ٹرک کو حادثے کے بعد موقع سے فرار ہوتے بھی دیکھا گیا، جو کہ متحدہ عرب امارات کے ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

شارجہ پولیس نے ڈرائیور کو چھ گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا۔ حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس واقعے نے سوشل میڈیا، ڈیش کیمز، اور ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر فوری کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔

ماہرِ ٹریفک مصطفیٰ الداہ نے کہا، "ٹیکنالوجی اور عوامی شعور نے ایک نیا حفاظتی نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اب ڈرائیور جانتے ہیں کہ ان کا کوئی بھی خطرناک اقدام لمحوں میں آن لائن آ سکتا ہے اور تحقیقات کا حصہ بن سکتا ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ وفاقی فرمانی قانون نمبر 14، 2024 کی دفعہ 5 کے مطابق، حادثے کے تین گھنٹوں کے اندر پولیس کو اطلاع دینا لازمی ہے، ورنہ سخت سزا دی جا سکتی ہے۔ دفعہ 38 کے تحت، حادثے کے بعد فرار ہونا – خاص طور پر اگر کسی کو چوٹ آئی ہو – دو سال تک قید اور 50,000 سے 100,000 درہم تک جرمانے کا باعث بن سکتا ہے۔

مصطفیٰ الداہ نے زور دیا کہ قوانین کے ساتھ ساتھ عوامی رویے میں بہتری بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، "سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مہمات کی بدولت جو تبدیلی پہلے دہائیوں میں آتی تھی، اب ہفتوں میں ممکن ہو گئی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کو بار بار یاد دہانی ضروری ہے۔”

انشورنس مسائل

حادثے کے متاثرین کے لیے اصل آزمائش گرفتاری کے بعد شروع ہوتی ہے، کیونکہ انشورنس کا عمل پیچیدہ ہوتا ہے۔
ڈیون مائٹرا، سیونگٹن انٹرنیشنل انشورنس بروکرز کے بانی، نے کہا، "پولیس کو فوری رپورٹ دینا لازم ہے، ورنہ کلیم کا عمل شروع ہی نہیں ہو سکتا۔”

اگر قصور وار ڈرائیور نامعلوم ہو یا اس کے پاس انشورنس نہ ہو، تو مکمل انشورنس رکھنے والے متاثرین کو معاوضہ مل سکتا ہے، لیکن تھرڈ پارٹی انشورنس والے اکثر مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مسائل میں شامل ہیں:

  • تحقیقات کی طوالت کے باعث تاخیر

  • انشورنس کمپنیوں کی جانب سے مشتبہ دعوؤں پر کلیم مسترد کرنا

  • عدالتوں میں شہری مقدمات کی صورت میں متاثرہ فریق کو ازالے کے لیے جدوجہد کرنا

اگرچہ مجرم کا سابقہ ریکارڈ کلیم پر اثر انداز نہیں ہوتا، لیکن عدالتی فیصلوں میں سخت سزا کا سبب بن سکتا ہے۔

ڈیجیٹل شواہد اور فراڈ کی روک تھام

انشورنس کمپنیاں اب ڈیش کیم فوٹیج، ٹیلیمیٹکس ڈیٹا، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مدد سے فراڈ کی روک تھام اور جائز کلیمز کی توثیق کرتی ہیں۔

فراڈ کے خدشات والے نکات میں شامل ہیں:

  • متضاد بیانات یا تاخیر سے رپورٹنگ

  • دعویٰ اور جسمانی نقصان میں عدم مطابقت

  • ضرورت سے زیادہ مرمت کے اخراجات یا بار بار دعوے

مصطفیٰ الداہ نے کہا، "اعتماد، شفافیت اور بروقت رپورٹنگ ہی محفوظ ڈرائیونگ اور کلیمز کے کامیاب عمل کی بنیاد ہیں۔”

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کچھ انشورنس کمپنیاں، جیسا کہ سیونگٹن، واٹس ایپ پر کلیم ٹریکنگ اور ڈیجیٹل درخواستوں کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہیں تاکہ صارفین کو آسانی ہو۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button