
(خلیج اردو ) شارجہ انڈین سکول کی ہونہار طالبہ سندرہ این جوسن 18 سال کی عمر میں لمبی بیماری سے لڑتے ہوئے اس جہان فانی سے رخصت ہوگئی ہے ۔
سندرہ کا 2015 میں ایک مچھر کے کاٹنے سے ہینوچ سکونلین پرپورہ نامی بیماری لاحق ہوئی تھی جس میں شریانوں سے خون کا انخلا ہونے لگاتا ہے ۔سندرہ کے والد نے بارہا کہ اس کا انتقال 7 ستمبر کو ہوا جب اسکو انڈیا لے جایا گیا تھا جہاں اسکا گردہ تبدیل کیا جانا تھا مگر وہ اس سے پہلے ہی انتقال کرگئی ۔
سندرہ کو سوشل میڈیا پر اس وقت پذیرائی ملی تھی جب اس کلاس لئے بغیر ہی سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ امتحان ٹاپ ٹین میں جگہ حاصل کی تھی ۔
اس والد نے کہا کہ وہ سارا سال بستر پر پڑی رہی تھی اور امتحان کی تیاری بھی گھر سے ہی جاری رکھی۔ سندرہ نے بیماری کو پڑھائی میں دخل اندازی سے روکے رکا مگر زندگی نے اسکا ساتھ چھوڑ دیا ۔
اسکے ولد نے کہا کہ ہم نے اسکے لئے گردہ لینے کا بندوبست کر رکھا تھا اور اس مہینے کے آخر میں اس کا آپریشن طے ہوا تھا مگر وہ پہلے ہی وفات پا گئی ۔
سندرہ کو صبح سے سانس لینے میں مشکل پیش آرہی تھی جس پر ہم اسے اسپتال لے کر گئے جہاں ہمیں بتایا گیا کہ سندرہ کو دل کا دورہ پڑا ہے ۔ڈاکٹروں نے دوائی دی مگر اسکا بلڈ پریشر بڑھتا جارہا تھا اور کچھ وقت بعد اسکو دوسرا دورہ پڑا جو اسکی موت کا سبب بنا ۔
بیماری کے باجود سندرہ نے 75 فیصد نمبر حاصل کئے اور سندرہ نے خواہش ظاہر کی تھی وہ ایک ائیر ہوسٹس بننا چاہتی ہے مگر اسکا جواب پورا نہ ہوسکا اسکے والد نے کہا ۔
شارجہ میں انڈین سوسائٹی کے صدر نے سندرہ کے موت پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ سندرہ ایک ہونہار لڑکی تھی جس کے جانے کا ہمیں بہت دکھ ہے ۔ اس نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ سندرہ کی زندگی بچ سکے مگر اب ہم اس کے غم میں اسکے والدین کے ساتھ شریک ہیں ۔
Source : Khaleej Times







