متحدہ عرب امارات

وہ ایک فرشتہ تھی‘: ابو ظہبی میں ایرانی میزائل حملے میں جاں بحق فلسطینی خاتون پر امارات بھر میں غم، شہریوں کی بڑی تعداد تعزیت کے لیے پہنچ گئی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں ایرانی میزائل حملے میں جاں بحق ہونے والی فلسطینی خاتون علا نادر عونی مشتہا کی موت پر گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

33 سالہ علا نادر پیر کی صبح اپنے کام پر جاتے ہوئے اس وقت جان کی بازی ہار گئیں جب ایک میزائل ان کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ وہ ان چھ شہریوں میں شامل تھیں جو خلیجی ممالک پر حملوں کے دوران ہلاک ہوئے۔

ساتھی کارکنان کے مطابق علا نادر نہایت نرم دل، ذمہ دار اور مخلص شخصیت کی مالک تھیں۔ ان کے ساتھ کام کرنے والی فاطمہ الحمامی نے کہا، “وہ ایک فرشتہ تھیں، ان کی باتوں میں نرمی اور دل میں خلوص تھا، انہوں نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی۔”

علا نادر ایک پنیر تیار کرنے والی فیکٹری میں خصوصی افراد کی تربیت کرتی تھیں، جہاں وہ اپنی محنت، توجہ اور ذمہ داری کے باعث سب میں نمایاں تھیں۔ ساتھیوں کے مطابق وہ وقفے کے دوران بھی کام کی نگرانی جاری رکھتی تھیں تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔

گھریلو زندگی میں بھی وہ اپنے خاندان کے لیے سہارا تھیں۔ چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہونے کے ناطے وہ گھر کے اخراجات اور بھائیوں کی تعلیم میں مدد کرتی تھیں۔ دو سال قبل ان کی بہن اپنے بچوں سمیت غزہ میں ایک حملے میں جاں بحق ہو چکی تھیں، مگر اس صدمے کے باوجود انہوں نے اپنے فرائض جاری رکھے۔

ابو ظہبی کے علاقے الرحبہ میں قائم تعزیتی مقام پر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جن میں ایسے افراد بھی شامل تھے جو انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے مگر انسانی ہمدردی کے تحت شریکِ غم بننے آئے۔

ایک خاتون نے کہا، “میں انہیں نہیں جانتی، مگر جنگ کے دکھ کو سمجھتی ہوں، بس یہی دعا ہے کہ ہمارے بچے محفوظ رہیں۔” جبکہ ایک اور شہری نے کہا کہ “ہم سب ایک خاندان کی طرح ہیں، مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔”

یہ واقعہ نہ صرف جنگ کے انسانی نقصان کو اجاگر کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ہمدردی، یکجہتی اور انسانیت کے جذبے کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button