متحدہ عرب امارات

امریکہ، اسرائیل، ایران جنگ کے اثرات، فلپائنی کرنسی شدید دباؤ کا شکار، درہم کے مقابلے میں قدر کم، مہنگائی اور ایندھن بحران میں اضافہ

خلیج اردو
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں فلپائن کی کرنسی فلپائنی پیسو تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پیسو کی قدر 60 فی ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے درہم کے مقابلے میں بھی یہ 16.25 تک گر گئی ہے، جو ایک دن قبل 15.98 تھی۔

اگرچہ بیرون ملک مقیم فلپائنی شہریوں کو ترسیلات زر میں وقتی فائدہ ہو سکتا ہے، تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے، بجلی و پانی کے نرخ بڑھنے اور اشیائے خورونوش کی مہنگائی نے اس فائدے کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔

امریکہ اسرائیل ایران کشیدگی 2026 سے قبل پیسو کی قدر تقریباً 57.6 فی ڈالر تھی، لیکن اس کے بعد مسلسل چار مرتبہ کرنسی کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جہاں ڈیزل کی قیمت بعض علاقوں میں 55 پیسو سے بڑھ کر 120 پیسو فی لیٹر تک پہنچ گئی، جس کے باعث ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

عام شہریوں، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے، پر اس کے شدید اثرات پڑ رہے ہیں، جہاں سڑک کنارے کھانے بیچنے والوں نے بھی قیمتیں بڑھا دی ہیں اور بعض جگہوں پر آدھی مقدار میں کھانا فروخت کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب بجلی فراہم کرنے والی کمپنی Meralco نے بھی نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ پانی فراہم کرنے والے اداروں نے بھی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جس سے گھریلو اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو فلپائن کو توانائی کی سپلائی اور تجارتی خسارے کے مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اگر تیل کی ترسیل متاثر رہی۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی تنازعات کا اثر صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی پر بھی براہ راست پڑتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button