
خلیج اردو
دبئی: دبئی نے پچھلے ماہ "ریئل اسٹیٹ ٹوکنائزیشن پراجیکٹ” کا پائلٹ مرحلہ متعارف کرایا، جس کے تحت پہلی پراپرٹی نے چھوٹے سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست دلچسپی حاصل کی۔ اب صرف دو ہزار درہم سے متحدہ عرب امارات کے رہائشی دبئی کی جائیداد میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
یہ جدید سرمایہ کاری پلیٹ فارم ‘Prypco Mint’ ہے، جو Prypco نے دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ (DLD)، ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (VARA)، اور Zand بینک کے اشتراک سے متعارف کرایا ہے۔
جائیداد کی ٹوکنائزیشن کیا ہے؟
ٹوکنائزیشن کے تحت جائیداد کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو بلاک چین پر ریکارڈ ہوتے ہیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کو مہنگی جائیداد میں جزوی ملکیت حاصل ہوتی ہے۔
پلیٹ فارم اور سرمایہ کاری کی تفصیلات
Prypco Mint کے ذریعے سرمایہ کاری ممکن ہے۔ صرف وہی افراد سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جو یو اے ای کے رہائشی ہوں، ان کے پاس اماراتی شناختی کارڈ ہو، اور وہ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے ہوں۔
کم از کم سرمایہ
صرف 2,000 درہم سے سرمایہ کاری شروع کی جا سکتی ہے۔ ہر جائیداد کو چھوٹے ٹکڑوں (ٹوکنز) میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، 130 مربع میٹر کی پراپرٹی کو 13 لاکھ ٹوکنز میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور ہر ٹوکن کی قیمت پراپرٹی کی کل قیمت کے حساب سے نکلتی ہے۔
ٹوکنز کی خرید و فروخت
ہر سرمایہ کار ایک جائیداد کے زیادہ سے زیادہ 20 فیصد ٹوکنز خرید سکتا ہے۔ سرمایہ کاری بینک ٹرانسفر یا کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ سے ممکن ہے، جبکہ کرپٹو کرنسی قبول نہیں کی جاتی۔ ٹوکنز کی خریداری پر دو فیصد سرمایہ کاری فیس، ایک فیصد ایگزٹ فیس، اور 0.5 فیصد سالانہ انتظامی فیس لاگو ہوتی ہے۔ پراپرٹی فروخت ہونے پر سرمائے میں اضافے پر 15 فیصد تک کی فیس بھی ممکن ہے۔
رجسٹریشن اور سیکورٹی
تمام سرمایہ کاروں کو Prypco Mint پر رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ پلیٹ فارم بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ بنایا گیا ہے، اور جائیداد کا ملکیتی حق بھی بلاک چین پر رجسٹر ہوتا ہے۔
منافع اور کرایہ
اگر پراپرٹی کرائے پر دی گئی ہو تو ماہانہ کرایہ سرمایہ کاروں کو فراہم کیا جائے گا۔ تخمینہ منافع 8 سے 12 فیصد سالانہ بتایا گیا ہے۔ اگر ٹوکن کرایہ جاری ہونے سے پہلے فروخت ہو جائے تو اس ماہ کا کرایہ نہیں ملے گا۔
اخراج اور مرمت
سرمایہ کار دو طریقوں سے نکل سکتے ہیں: 1) اپنے ٹوکن مارکیٹ پلیس پر فروخت کر کے۔ 2) اگر 51 فیصد سے زیادہ سرمایہ کار پراپرٹی بیچنے پر متفق ہوں تو پراپرٹی بیچ دی جائے گی، اور منافع تمام سرمایہ کاروں میں تقسیم ہوگا۔
اگر جائیداد میں بڑی تبدیلی یا مرمت کی ضرورت ہو تو تمام سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا جائے گا، اور ان کی اکثریتی رائے سے فیصلہ ہوگا۔
مستقبل کا امکان
پہلی پراپرٹی ایک دن میں مکمل فنڈ ہوئی، جو Damac کی یونٹ تھی۔ دوسری پراپرٹی 11 جون 2025 کو فہرست میں شامل کی جائے گی۔ اندازہ ہے کہ 2033 تک دبئی کا ٹوکنائزڈ ریئل اسٹیٹ سیکٹر 60 ارب درہم تک پہنچ جائے گا، جو کل لین دین کا 7 فیصد ہوگا۔
مقصد اور فائدے
یہ اقدام بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو راغب کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس سے جائیداد کی ملکیت میں تنوع پیدا ہوگا اور ایک ہی جائیداد میں کئی افراد شریک ہو سکیں گے۔







