
خلیج اردو
اوریم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چارلی کرک کے قتل کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے فاکس نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "انتہائی یقین کے ساتھ ہم نے اسے پکڑ لیا ہے۔”
ٹرمپ کے مطابق ایک وزیر جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ وابستہ ہیں، انہوں نے ملزم کو حکام کے حوالے کیا۔ ٹرمپ نے بتایا کہ "کسی ایسے شخص نے جو اس کے بہت قریب تھا کہا، ہاں یہی ہے۔”
واضح رہے کہ جمعرات کو وفاقی تفتیش کاروں اور ریاستی حکام نے اس شخص کی تصاویر اور ویڈیو جاری کی تھیں جسے چارلی کرک پر فائرنگ کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ کرک کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ یوٹاہ ویلی یونیورسٹی، اوریم میں ایک مجمع سے خطاب کر رہے تھے۔
واقعے کی لرزہ خیز ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں دیکھا گیا کہ کرک خطاب کے دوران مائیک تھامے ہوئے تھے کہ اچانک گولی چلنے کی آواز آئی اور ان کی گردن سے خون بہنے لگا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ آور نے چھت سے ایک گولی چلائی اور پھر بھیڑ میں گھل مل کر موقع سے فرار ہو گیا۔
ایف بی آئی کے سالٹ لیک سٹی کے سربراہ رابرٹ بولس نے کہا کہ یہ "ٹارگٹڈ ایونٹ” تھا۔ حکام کے مطابق ملزم کا حلیہ کالج کے طلبا جیسا تھا جس کی وجہ سے وہ بھیڑ میں باآسانی گھل مل گیا۔
ٹرمپ نے چارلی کرک کی خدمات کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ انہیں صدارتی تمغہ برائے آزادی (Presidential Medal of Freedom) دیا جائے گا۔ نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کی اہلیہ کرک کے اہلخانہ سے ملاقات کے لیے سالٹ لیک سٹی پہنچے، جبکہ کرک کا تابوت ایئر فورس ٹو کے ذریعے یوٹاہ سے فینکس منتقل کیا گیا جہاں ان کی تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے قائم ہے۔
چارلی کرک قدامت پسند نوجوان ریپبلکن ووٹرز کو متحرک کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتے تھے اور ان کے پروگرام اکثر یونیورسٹی کیمپسز میں متنازع مباحثے کا باعث بنتے تھے۔ واقعے کے روز بھی وہ اسلحہ کے استعمال اور گن وائلنس پر سوالات کے جواب دے رہے تھے کہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
یونیورسٹی میں فائرنگ کے بعد طلبا نے کلاس رومز کے دروازے بند کر کے اندر پناہ لی اور خود کو محفوظ رکھنے کے لیے میز اور دیگر اشیاء سے رکاوٹیں کھڑی کر لیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے تاہم دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔







