
خلیج اردو
عجمان میں جعلی کرنسی ایکسچینج ڈیل کے دوران خود کو کرمنل انویسٹی گیشن کے افسر ظاہر کر کے 4 لاکھ درہم چرانے والے 9 ملزمان کو تین سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ عجمان فیڈرل پرائمری کورٹ نے ملزمان کو چوری شدہ رقم واپس کرنے کا بھی حکم دیا ہے، جبکہ سزا مکمل ہونے کے بعد سات ملزمان کو ملک بدر کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
مقدمے کے مطابق متاثرہ شخص نے ملزمان کے گروہ کے ساتھ امریکی ڈالر کے بدلے 4 لاکھ درہم تبدیل کرنے کا معاہدہ کیا تھا، جو انہوں نے بہتر ریٹ کی پیشکش پر قبول کیا۔ مقررہ مقام پر پہنچنے پر تین عرب باشندوں نے متاثرہ شخص اور اس کے ساتھیوں کو خود کو تفتیشی افسر ظاہر کرتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلنے کا حکم دیا اور دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، ایک ملزم نے متاثرین کے شناختی کارڈز اور موبائل فونز جمع کر لیے جبکہ دوسرا فرضی طور پر اعلیٰ حکام سے فون پر بات کرتا رہا۔ اس دوران تیسرا ملزم گاڑی سے نقدی سے بھرا بیگ چرا کر فرار ہو گیا۔
واردات کے فوراً بعد متاثرہ شخص نے پولیس کو اطلاع دی جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے چند ہی دنوں میں پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر کے تقریباً ساری رقم بازیاب کر لی، تاہم 63 ہزار درہم تاحال برآمد نہ ہو سکے۔
تحقیقات کے دوران پانچویں ملزم نے جرم کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا جبکہ دیگر چار نے اپنے کردار قبول کیے۔ باقی ملزمان نے جرم سے انکار کرتے ہوئے گرفتاری اور تلاشی کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا۔ تاہم عدالت نے ان دلائل کو مسترد کر دیا اور قرار دیا کہ اعترافات، معتبر گواہان کے بیانات اور متاثرہ شخص کی جانب سے شناخت کے شواہد جرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واردات کو منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا منظم جرم قرار دیا اور کہا کہ ملزمان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نام کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے متاثرہ شخص کو دھوکہ دیا۔
یہ کیس غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کے خطرات اور بڑی رقوم کے لین دین میں شناخت کی تصدیق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔







