متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے اگلے پچاس سالوں کیلئے دس رہنما اصول جاری کر دیے

خلیج اردو

06 ستمبر 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات کی قیادت نے اگلے پچاس سال کیلئے دس رہنما اصول جاری کیے ہیں جو ملک میں حکمرانی کی سمت کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف حوالے سے یو اے ای کا تشخص اجاگر کریں گے۔

پچاس سالوں کیلئے اصول کے نام سے شائع شدہ دستاویزات کو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم اور ابوظبہی کے ولی عہد شہزادہ اور مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زید المکتوم نے مشترکہ طور پر جاری کیا ہے۔

ملک کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان نے کہا ہے کہ ہمارا اولین اور واحد مقصد متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور رہائشیوں کو ہر حوالے سے بہترین نظام زندگی اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔ امن اور مکالمہ کی بنیاد پر قائم ہماری پالیسیوں سے اگلے پچاس برسوں میں معیشت کو آگے لیکر جانا ہے۔

شیخ محمد بن راشد المکتوم کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز ملک کے نئے سیاسی ، معاشی اور سماجی ترقی کیلئے ایک مشعل راہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی ہمارا نصب العین ہے اور اس کیلئے ہر ایک کو ملکر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ہمارا ملک ایک ہے اور ہمارا جھنڈا ایک ہے۔

شیخ محمد بن زید النہیان نے کہا کہ نیا معاشی مہم چلانے کا مقصد اگلے پچاس سالوں میں متحدہ عرب امارات کی معیشت کو مضبوط تر رکھنا ہے۔

ہمارا ملک اپنے حاصل کردہ کامیابیوں کو جاری رکھتے ہوئے قابل افراد اور سرمایہ کاروں اور ہنرمندوں کیلئے ایک پرائم ڈیستینیشن رہے گا۔

دس رہنما اصول مندرجہ ذیل ہیں۔

1. سب سے اولین ذمہ داری اور ترجیح یہی رہے گی کہ متحدہ عرب امارات کا اتحاد برقرار رہے۔ اس کے اداروں ، قانون اور آئین ، صلاحیتوں اور بجٹ کو مزید مضبوط کیا جائے۔ ملک کی شہرہ اور معاشی ترقی کو تیز تر کرنے سے ہی اتحاد قائم رہنے کے ساتھ ساتھ مضبوط اور پائیدار رہے گا۔

2. اگلے سالوں میں ملک کی معیشت کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانا ہے جس کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ ملک کی معاشی ترقی بنیادی ترجیح ہے۔ ملک کے تمام ادارے ، تمام شعبے ملکر یہ ذمہ داری پوری کریں کہ عالمی طور پر ایسا معاشی نظام بنائیں جو موجودہ ترقی کو برقرار رکھے اور مزید ترقی حاصل کرے۔

3.متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی ایک پیمانہ ہے جس کا مقصد اعلی قومی اہداف کا حصول ہے جس میں ملک کے معاشی اہداف سرفہرست ہیں۔ ہماری سیاسی روابط کا بنیادی مقصد ملک کی معیشت کی مضبوط ہے اور بہترین معیشت کا مطلب متحدہ عرب امارات کیلئے بہترین معیار زندگی فراہم کرنا ہے۔

4. چوتھا اصول یہ ہے کہ انسانی سرمایے کی بڑھوتری کیلئے تمام محرکات کو بہترین بنانا ہے۔ اس میں انسانوں کے مختلف ہنر کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں شامل ہیں۔

5. متحدہ عرب امارات کا یقین ہے کہ بہترین ہمسایہ امن اور سلامتی کے ضامن ہیں۔ علاقائی ، سماجی اور ثقافتی ہم آہنگی کسی بھی ملک کی سلامتی اور حفٖاظت کیلئے بنیادی اکائی کی مانند ہے۔ ہمسائیوں کی جانب بہترین تعلقات ہی پائیدار ترقی کے حصول کیلئے لازمی ہے۔

6.تمام اداروں کیلئے لازم ہے کہ وہ عالمی طور پر متحدہ عرب امارات کے بطور ایک ملک اور ایک اتحاد کے اس کے بہترین تشخص کیلئے کام کریں۔ متحدہ عرب امارات ایک معاشی ، سیاحت ، صنعتی منزل ہے۔ ہمارے قومی اداروں کو اپنے طاقت یکجا کرکے ان اچھائیوں کے ترویج کیلئے کوششیں کرنی چاہیئے۔

7. نئے معاشی اورترقیاتی دور کے چیلنجز کیلئے لازم ہے کہ سئانسی ، سماجی ، تکنیکی شعبوں میں اعلی معیار کو قائم رکھا جائے۔ مستقل میں ہم علم ، ہنر ، قابلیت کا مرکز ہوں گے۔

8. متحدہ عرب امارات کے اقدار برداشت اور آزادی پر مبنی رہیں گے۔ حقوق کا تحفظ ، قانون کی بالادستی ، انسانی وقار کی سربلندی ، مختلف سماج کا احترام اور قومی شناخت کی عزت برقرار رکھنا ہر ایک شہری ، رہائشی کے ساتھ ساتھ اداروں اور ملازمین کا بنیادی فریضہ ہے۔

9.اخلاقی طور پر اور اپنے ویژن کے ایک حصے کے طور پر عالمی سطح پر بے کسوں ، لاچاروں اور امداد کے منتظر افراد کی انسانی بنیادوں پر عمل کرنا امارات کا خاصا ہے جسے ہر حال میں قائم رکھا جائے گا۔ اس حوالے سے کسی کی مدد کرتے ہوئے مذہب ، رنگ ، نسل اور قومیت کو نہیں دیکھا جائے گا۔

10۔ امن اور یگانت کیلئے ہم اپنے ہمسائیوں اور اقوام عالمی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقائی اور عالمی تنازعات کا حل ڈھونڈا جائے۔ اپنے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ ملکر عالمی اور علاقائی امن کے قیام کیلئے ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی کی بنیادی اکائی رہے گی۔

Source : Khaleej times

Source : Khaleej times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button