
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے پیر کے روز وزٹ ویزا کی چار نئی کیٹگریز متعارف کرائیں جو مصنوعی ذہانت، انٹرٹینمنٹ، تقریبات، کروز شپ اور لگژری یاٹ کے ماہرین کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ اقدام داخلہ ویزا کے قوانین میں ہونے والی حالیہ ترامیم اور اضافوں کا حصہ ہے جنہیں فیڈرل اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سیکیورٹی (ICP) نے جاری کیا۔
حکام کے مطابق ان نئے ضوابط کا مقصد دنیا کے لیے کھلے پن کے رویے کو فروغ دینا اور بالخصوص ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تفریح اور سیاحت کے شعبوں میں ٹیلنٹ، ماہرین اور سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے۔ اس ضمن میں ہر ویزا کے لیے قیام کی مدت اور اس کے قابلِ تجدید ہونے کی شرائط واضح طور پر جاری کی جائیں گی۔
چار نئی ویزا کیٹگریز میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین کے لیے ویزا، انٹرٹینمنٹ کے لیے عارضی ویزا، تقریبات جیسے کانفرنس، نمائش اور مذہبی یا کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے ویزا اور کروز شپ و یاٹ کے ذریعے سیاحتی ویزا شامل ہیں۔ ان تمام ویزوں کے اجراء کے لیے اسپانسر یا میزبان ادارے کی جانب سے تصدیقی خط لازمی ہوگا۔
اسی طرح ایک سالہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائش کا اجازت نامہ بھی دیا جائے گا جسے مخصوص شرائط کے تحت بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ رہائش ان ممالک کے شہریوں کو دی جا سکے گی جو جنگوں یا قدرتی آفات سے متاثر ہوں، اور اس کے لیے کسی اسپانسر کی ضرورت نہیں ہوگی۔
حکومتی فیصلے میں بیوہ اور مطلقہ خواتین کے لیے بھی ایک سالہ رہائش کی سہولت شامل ہے جسے مزید ایک سال کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ درخواست چھ ماہ کے اندر دی جائے اور مناسب رہائش اور مالی گنجائش کی شرائط پوری کی جائیں۔
ترمیم شدہ ضوابط کے مطابق یو اے ای کے مقیم افراد اب اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو بلانے کے لیے کم از کم تنخواہ کی شرط پوری کریں گے۔ قریبی رشتہ دار کے لیے کم از کم 4000 درہم ماہانہ، دوسرے یا تیسرے درجے کے رشتہ دار کے لیے 8000 درہم، جبکہ دوست کو بلانے کے لیے کم از کم 15000 درہم ماہانہ آمدنی ہونا ضروری ہے۔
مزید برآں بزنس ایکسپلوریشن ویزا کے لیے درخواست گزار کو مالی طور پر مستحکم ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ ٹرک ڈرائیورز کے لیے سنگل یا ملٹی پل انٹری ویزا متعارف کرایا گیا ہے، جس کے لیے اسپانسر شپ اور ہیلتھ انشورنس لازمی ہوگی۔
یہ تمام نئے ویزے اور ضوابط متحدہ عرب امارات کی معیشت کو مزید متحرک کرنے اور دنیا بھر کے ہنرمندوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ایک بڑا قدم ہیں۔







