متحدہ عرب امارات

یو اے ای: کرپٹو سرمایہ کاروں کو گولڈن ویزا جاری ہونے سے متعلق حکام کی وضاحت آگئی

خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات کی متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو گولڈن ویزا جاری کرنے کی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔

یہ وضاحت وفاقی اتھارٹی برائے شناخت و شہریت، کسٹمز و پورٹس سیکیورٹی (ICP)، سیکیورٹیز اینڈ کموڈیٹیز اتھارٹی (SCA) اور ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (VARA) کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کی گئی۔

بیان کے مطابق، طویل مدتی رہائشی گولڈن ویزا صرف مخصوص شعبوں سے وابستہ افراد کو دیا جاتا ہے، جن میں جائیداد میں سرمایہ کاری کرنے والے، کاروباری افراد، نمایاں صلاحیتوں کے حامل ماہرین، سائنسدان، نمایاں طلبہ، انسان دوست سرگرمیوں کے علمبردار، اور فرنٹ لائن ورکرز شامل ہیں۔

VARA نے واضح کیا کہ کوئی بھی رجسٹرڈ کمپنی دبئی حکومت کی مقررہ ویزا پالیسی پر عمل کی پابند ہے۔ اس کا بیان ٹون فاؤنڈیشن کے سی ای او میکس کراؤن کی جانب سے 6 جولائی کو کیے گئے ایک دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹون کرپٹو رکھنے والوں کو 35 ہزار ڈالر کی فیس اور چند شرائط کے تحت 10 سالہ گولڈن ویزا دیا جائے گا۔ VARA نے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹون فاؤنڈیشن ان کی جانب سے لائسنس یافتہ یا ریگولیٹڈ نہیں ہے۔

SCA نے بھی متنبہ کیا کہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو صرف مصدقہ ذرائع سے معلومات حاصل کرنی چاہییں، کیونکہ یہ سرمایہ کاری سخت ریگولیشنز کے تحت ہوتی ہے اور گولڈن ویزا سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

تینوں اداروں نے عوام اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ معلومات کے لیے صرف سرکاری ویب سائٹس یا مصدقہ ذرائع سے رجوع کریں اور سوشل میڈیا یا دیگر غیر مصدقہ پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے اشتہارات یا دعووں سے گریز کریں۔

مزید معلومات کے لیے افراد کو ICP کی ویب سائٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button