
خلیج اردو
دبئی: انٹرنیشنل بکلوریٹ (IB) کے امتحانات کے نتائج ہفتے کے روز جاری ہوئے، اور متحدہ عرب امارات کے متعدد طلبہ نے ایسے اسکورز حاصل کیے جو انہیں عالمی سطح پر ٹاپ 0.1 فیصد میں شامل کرتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ان کامیاب طلبہ نے اپنی کامیابی کو راتوں کی نیندیں حرام کرنے یا آخری لمحوں کی تیاریوں سے نہیں جوڑا، بلکہ ان کے مطابق جذبہ، تجسس، خود پر یقین، اور مواقع کھو دینے کا خوف ان کی اصل قوت محرکہ تھا۔
اقوام متحدہ میں مصروف، مگر 45 میں 45 نمبر حاصل کرنے والی طالبہ
GEMS ماڈرن اکیڈمی کی طالبہ آنیا کھنڈیلوال، جو رہحل پروگرام کا حصہ تھیں، ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جنہوں نے 45 میں سے مکمل 45 نمبر حاصل کیے۔ لیکن ان کا تعلیمی سفر منفرد تھا، کیونکہ وہ کلاس روم میں کم اور اقوام متحدہ کی نمائندگی کرتے ہوئے زیادہ وقت گزارتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے کام کی وجہ سے اکثر جمعرات کے روز اسکول نہیں جا پاتیں، جبکہ ہر سیمسٹر میں کم از کم ایک ماہ کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے باہر رہتی تھیں۔
آنیا کے مطابق وہ باقاعدہ مطالعے کی روادار نہیں تھیں، بلکہ امتحان سے کچھ دن پہلے تیاری کرتی تھیں۔ تاہم، اقوام متحدہ کے تجربات نے انہیں سیاست جیسے مضامین میں فطری برتری دے دی، اور IB نے انہیں ذہنی و فکری نشوونما کی مکمل آزادی دی۔
کلاس میں مکمل توجہ، اور شوق نے میلس کو بنایا کامیاب
دبئی انٹرنیشنل اکیڈمی ایمیریٹس ہلز کی طالبہ میلس یلماز، جو اب امپیریل کالج لندن میں طب کی تعلیم حاصل کرنے جا رہی ہیں، نے بھی مکمل اسکور حاصل کیا۔ ان کے مطابق، سب سے زیادہ مشکل مگر پسندیدہ مضامین بائیولوجی اور کیمسٹری تھے۔ وہ سال بھر روزانہ چند گھنٹے پڑھتی رہیں، لیکن امتحان سے 4 سے 6 ہفتے قبل روزانہ 5 سے 6 گھنٹے کی تیاری شروع کر دی۔
میلس نے اس بات پر زور دیا کہ کلاس میں 100 فیصد توجہ دینا سب سے اہم تھا، کیونکہ اس سے امتحان کے وقت دہرائی کی ضرورت کم رہتی ہے۔ ان کے مطابق، اساتذہ کی رہنمائی اور ذاتی دلچسپی والے موضوعات کا انتخاب ہی کامیابی کی کنجی تھا۔
خوف سے ترتیب، ترتیب سے کامیابی: کنیشکا کی کہانی
DIA البرشا کی طالبہ کنیشکا کیشروانی نے 44 نمبر حاصل کیے اور اب ڈرہم یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کریں گی۔ ان کے مطابق، خود شناسی، خاندان کا غیر دباؤ والا تعاون، اور مواقع کھونے کا خوف ان کے لیے محرک رہا۔ انہوں نے بتایا کہ موک امتحانات میں کمزور کارکردگی کے بعد انہوں نے رنگین کوڈ والا ایک ایکسل شیٹ بنایا تاکہ تیاری کو ٹریک کیا جا سکے، اور ہر ٹاپک کو سرخ سے سبز میں بدلتے دیکھ کر ایک خاص اطمینان ملا۔
کنیشکا نے اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ صرف اس لیے مواقع نہ چھوڑیں کہ ان میں تھوڑی محنت درکار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کالج اپلیکیشنز اور انٹرنل اسسمنٹ کے بعد دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا بھی اتنا ہی قیمتی تھا جتنا تعلیمی سفر۔






