متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں نیا تعلیمی سال: والدین کو فیس، یونیفارم اور دیگر اخراجات پر کتنی رقم خرچ کرنا پڑے گی؟

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات میں اگست کے آخری ہفتے سے نیا تعلیمی سال 2026-2027 شروع ہونے جا رہا ہے، جس کے ساتھ ہی ہزاروں والدین اسکول فیس، یونیفارم، کتابوں اور دیگر تعلیمی اخراجات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

ماہرین کے مطابق اسکول کی سالانہ فیس کے علاوہ دیگر لازمی اخراجات شامل ہونے سے مجموعی تعلیمی خرچ 10 سے 25 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، اس لیے والدین کو پہلے سے مالی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

اسکول فیس کتنی ہو سکتی ہے؟

کم لاگت والے اسکول

  • سالانہ فیس: 4,100 سے 30,000 درہم

درمیانے درجے کے اسکول

  • سالانہ فیس: 35,000 سے 60,000 درہم

پریمیم اسکول

  • سالانہ فیس: 55,000 سے 95,000 درہم یا اس سے زیادہ
  • بعض بین الاقوامی اسکولوں کی فیس 143,000 درہم سالانہ سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

فیس کے علاوہ اضافی اخراجات

ماہرین کے مطابق ہر بچے پر تعلیمی سال کے آغاز میں 2,000 سے 10,000 درہم تک اضافی خرچ آ سکتا ہے۔

یونیفارم

  • 600 سے 2,000 درہم فی بچہ
  • بعض اسکولوں میں یونیفارم، کھیلوں کی کٹ اور جوتوں سمیت یہ خرچ 5,000 درہم سالانہ تک پہنچ سکتا ہے۔

کتابیں، اسٹیشنری اور ٹیکنالوجی

  • 1,500 سے 4,000 درہم
  • سیکنڈری کلاسوں کی کتابوں کا سیٹ 1,200 درہم تک ہو سکتا ہے، جبکہ بیگ اور اسٹیشنری پر 300 سے 500 درہم تک خرچ آ سکتا ہے۔

لنچ باکس اور پانی کی بوتل

  • 150 سے 500 درہم

غیر نصابی سرگرمیاں

  • سالانہ 1,000 سے 8,000 درہم یا اس سے زیادہ
  • کھیل، روبوٹکس اور پرفارمنگ آرٹس جیسے پروگرام اضافی فیس کے ساتھ دستیاب ہوتے ہیں۔

والدین کے لیے بجٹ بنانے کی تجاویز

  • تعلیمی سال کے تمام اخراجات کی پہلے سے فہرست تیار کریں۔
  • اسکول فیس، ٹرانسپورٹ، یونیفارم، کتابوں اور سرگرمیوں کے لیے الگ بجٹ مختص کریں۔
  • تنخواہ ملتے ہی تعلیمی اخراجات کے لیے الگ اکاؤنٹ میں رقم منتقل کریں۔
  • ہنگامی فنڈ کو اسکول فیس کی ادائیگی کے لیے استعمال نہ کریں۔
  • بجٹ بناتے وقت اخراجات میں 10 سے 15 فیصد اضافے کا امکان بھی شامل رکھیں۔
  • سالانہ ادائیگی پر ملنے والی رعایت یا بلاسود اقساط سے فائدہ اٹھائیں۔
  • موسم گرما کی سیلز اور بیک ٹو اسکول آفرز کے دوران خریداری کر کے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت منصوبہ بندی اور مناسب بجٹ کے ذریعے والدین نئے تعلیمی سال کے مالی دباؤ کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button