متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں مقیم بھارتی تنظیم نے سونے کے قواعد پر وضاحت طلب کر لی

خلیج اردو
شارجہ: یو اے ای میں مقیم بھارتی تنظیم "انڈین ایسوسی ایشن شارجہ” نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک سے آنے والے بھارتی شہریوں کے لیے سونا لے جانے کے قواعد میں موجود ابہام کو دور کرے۔ اس مقصد کے لیے تنظیم نے بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کو باضابطہ میمورنڈم بھیجا ہے۔

تنظیم کے صدر نظار تھالنگارا نے کہا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا سامنا بھارتی شہریوں کو ہر بار اپنے وطن واپسی پر ایئرپورٹس پر کرنا پڑتا ہے۔ تنظیم کے نائب صدر پرتھیپ نیمارا نے بتایا کہ انہیں حال ہی میں بھارت آمد پر صرف 30 گرام وزنی دو چوڑیاں لے جانے پر کسٹم حکام نے ایک گھنٹے سے زیادہ روکے رکھا اور 35 فیصد ٹیکس عائد کر کے ایک لاکھ سات ہزار بھارتی روپے (تقریباً 4,400 درہم) ادا کرنے پر مجبور کیا۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین تقریباً ایک دہائی پرانے ہیں اور ان کا نفاذ آج کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جب کہ سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، پرانے ضوابط کی وجہ سے مسافروں کو چھوٹے زیورات پر بھی بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

موجودہ قوانین کے مطابق خواتین زیادہ سے زیادہ 40 گرام (تقریباً ایک لاکھ بھارتی روپے مالیت) اور مرد 20 گرام (تقریباً پچاس ہزار بھارتی روپے مالیت) تک زیورات اپنے ساتھ لا سکتے ہیں۔ لیکن 2016 میں یہ ضابطہ جاری ہونے کے وقت 22 قیراط سونے کی قیمت تقریباً 2,500 روپے فی گرام تھی، جو اب بڑھ کر 8,000 روپے فی گرام سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ قیمت اور وزن کے درمیان اس تضاد سے مسافروں اور حکام دونوں کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اس وجہ سے نہ صرف مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بعض اوقات بدعنوانی کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔

انڈین ایسوسی ایشن شارجہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹیفکیشن میں دی گئی مالیت کی حد ختم کر کے مسافروں کو صرف ایک متعین وزن کے زیورات ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے تاکہ غیر ضروری تنازعات اور مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button