متحدہ عرب امارات

قطر کے وزیراعظم نے اسرائیلی وزیراعظم کو "نرگسیت پسند” قرار دیا، دوحہ پر اسرائیلی حملوں کو ریاستی دہشت گردی کہا

خلیج اردو
دوحہ: قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو "نرگسیت پسند” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ پر اسرائیلی حملے ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہیں۔ انہوں نے یہ بیان امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں دیا۔

9 ستمبر کو اسرائیل نے دوحہ میں حماس رہنماؤں پر فضائی حملے کیے تھے جس پر متحدہ عرب امارات، خلیجی ممالک اور یورپی یونین کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔ اس کے اگلے روز نیتن یاہو نے قطر کو دھمکی دی کہ وہ یا تو حماس کے رہنماؤں کو بے دخل کرے یا "انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائے، ورنہ ہم لائیں گے۔”

قطر کی وزارت خارجہ نے ان دھمکیوں کو ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا اور واضح کیا کہ دوحہ میں حماس کا دفتر امریکی اور اسرائیلی درخواست پر قائم کیا گیا تھا تاکہ غزہ کے حوالے سے ثالثی اور مذاکرات کا عمل ممکن ہو۔

وزیراعظم قطر نے کہا کہ نیتن یاہو کے اقدام نے نہ صرف قوانین کی دھجیاں اڑائیں بلکہ ان خاندانوں کی امیدیں بھی توڑ دیں جو اپنے لاپتہ عزیزوں کی بازیابی کے لیے قطر کی ثالثی پر بھروسہ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "نیتن یاہو نے کل جو کچھ کیا، اس نے یرغمالیوں کے لیے بچی کھچی امید بھی ختم کر دی۔”

انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا قطر نیتن یاہو کی دھمکیوں کو قبول کرتا ہے تو انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ قطر کسی ایسی دھمکی کو قبول نہیں کرتا جو ایک ایسے شخص کی طرف سے آئے جو خود عالمی عدالت انصاف کے ریڈار پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ "وہ ہر بین الاقوامی قانون توڑ چکا ہے، اسے دنیا کو قانون پر لیکچر دینے کا کوئی حق نہیں۔”

وزیراعظم قطر نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کا رویہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ نرگسیت پسند ہیں کیونکہ "کوئی بھی باشعور انسان یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ثالثی کے لیے آنے والوں پر بمباری کی جائے۔” انہوں نے اس اقدام کو "وحشیانہ اور غیر مہذب” قرار دیا۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button