
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے کے لیے شروع کی گئی قومی مہم کے تحت والدین، اسکولوں اور معاشرے پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مل کر نوجوانوں میں اتنا اعتماد پیدا کریں کہ وہ دوستوں کے دباؤ میں آ کر منشیات استعمال کرنے سے صاف انکار کر سکیں۔
حکام اور ماہرین کے مطابق صرف آگاہی مہم یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ مضبوط خاندانی تربیت، مثبت اقدار اور کھلا رابطہ ہی نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
نیشنل ڈرگ انفورسمنٹ اتھارٹی نے یو اے ای گورنمنٹ میڈیا آفس کے تعاون سے "خطرے کے خاتمے کے لیے متحد” کے عنوان سے قومی انسدادِ منشیات مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو درست فیصلے کرنے، خود اعتمادی پیدا کرنے اور منفی اثرات کو مسترد کرنے کی صلاحیت دینا ہے۔
مہم کے تحت موسم گرما کی سرگرمیوں، کمیونٹی پروگرامز اور تعلیمی اقدامات کے ذریعے نوجوانوں میں جذباتی ذہانت، تنقیدی سوچ، برداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ رضاکارانہ سرگرمیوں، کھیلوں اور صحت مند مشاغل کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمری وہ مرحلہ ہے جہاں نوجوان قبولیت اور آزادی کی تلاش میں دوستوں کے دباؤ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں، جس کے باعث وہ سگریٹ نوشی، اسکول سے غیر حاضری یا منشیات آزمانے جیسے خطرناک رویوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلق قائم کریں، ان کے دوستوں اور آن لائن سرگرمیوں پر مناسب نظر رکھیں، سختی کے بجائے مکالمے کو فروغ دیں اور انہیں ذمہ دارانہ فیصلے کرنے کا موقع دیں۔
ماہرین کے مطابق نوجوانوں کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ اگر انہیں منشیات کی پیشکش ہو تو وہ اعتماد کے ساتھ "نہیں” کہیں، متبادل سرگرمی تجویز کریں، خاندانی اصولوں کا حوالہ دیں یا اپنے انکار پر ثابت قدم رہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حقیقی دوست کبھی بھی کسی کو نقصان دہ کام پر مجبور نہیں کرتے۔







