
خلیج اردو
22 مارچ 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات نے مختلف نئے ویزہ کے حوالے سے فہرصت جاری کی ہے۔ 21 مارچ 2021 کو اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے دو نئے ویزہ کا اجراء کیا ہے۔
ان میں سے ایک ریموٹ ورک ویزہ یا گھر سے کام کرنے والوں کا ویزہ موجود ہے جسے متحدہ عرب امارات میں یہاں کے رہائشیوں کو کام کرنے والے پروفیشنلز کیلئے استعمال کیا جا سکتا۔ دوسرا ملٹی پل انٹری ٹورسٹ ویزہ ہے جو تمام ممالک کے شہریوں کیلئے ہے۔
جنوری میں متحدہ عرب امارات نے قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ایمریٹس شہریت کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ دیگر اصلاحات میں طلباء کیلئے اجازر ہوگی کہ وہ اپنا والدین کو طویل المعیاد گولڈن ویزہ کیلئے اسپانسر کر سکیں۔ درج زیل میں مختلف اصلاحات کی فہرصت موجود ہے۔
ریموٹ ورک ویزہ
ایک سال کا ریموٹ ویزہ پروفشنلز کیلئے ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات سے بیٹھ کر دیگر ممالک کیلئے کام کر سکتے ہیں۔ اگر ان کی کمپنی متحدہ عرب امارات میں نہ بھی ہو تو وہ انہی ممالک سے بیٹھ کر کام کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے اسپانسرشپ کے ہوتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں قیام کر سکتے ہیں۔
ملٹی پل انٹری ویزٹ ویزہ
اس میں پانچ سال کیلئے ویزٹ ویزہ کو کسی گرنٹر کی ضرورت نہیں۔ ہر ایک انٹری کیلئے ، ویزہ ہولڈر ملک میں 90 دنوں کیلئے وہ قیام کر سکتے ہیں اور اس میں مزید 90 دنوں کیلئے قیام کر سکتے ہیں۔ یہ تمام قومیتوں کیلئے ہے کہ وہ ان ویزہ ہوتے ہوائے ملک میں جتنی دفعہ چاہے آسکتے ہیں اور جتنی دفعہ چاہیں باہر جا سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی شہریت سے متعلق ویزہ
متحدہ عرب امارات کے صدر اور وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ہفتے کے روز شہریت دینے سے متعلق قانون کی منظوری دی ہے۔
اس قانون کے مطابق ان مختلف پروفیشنلز اور ان کے خاندان والوں کیلئے ویزہ ملنے کی سہولت ہوگی۔ اس میں سرمایہ کار ، سائنس دان ، ڈاکٹرز ، انجینئرز ، فنکار اور لکھاری شامل ہیں۔
The UAE cabinet, local Emiri courts & executive councils will nominate those eligible for the citizenship under clear criteria set for each category. The law allows receivers of the UAE passport to keep their existing citizenship.
— HH Sheikh Mohammed (@HHShkMohd) January 30, 2021
کابینہ کے قرارداد نے جنوری 24 کو اس کی منظوری دی تھی جس میں بیرون ملک سے آئے طلباء اپنے خاندان کے افراد کو اسپانسر کر سکتے ہیں جب تک کہ وہ ان کا خرچہ برداشت کر سکیں۔
.@HHShkMohd chairs the #UAE Cabinet meeting held in Qasr Al Watan, Abu Dhabi, which was attended by @SaifBZayed and @HHMansoor.https://t.co/RvGPgLZQmk pic.twitter.com/EsphPRfhSr
— Dubai Media Office (@DXBMediaOffice) January 24, 2021
گذشتہ سال اکتوبر میں دبئی نے ایک ایسا پروگرام شروع کیا تھا جس کے تحت بیرون ملک مقیم دور دراز کارکنوں کو امارات میں رہنے کے قابل بناتا ہے جبکہ وہ اپنے آبائی ملک میں اپنے آجروں کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس اقدام سے دور دراز کے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو موقع ملتا ہے کہ وہ سالانہ بنیادوں پر دبئی منتقل ہوجائیں اور مضبوط اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعہ محفوظ اور اعلی معیار کی طرز زندگی سے لطف اندوز ہوں جو ہموار رابطے کی سہولت فراہم کرے۔
#Dubai launches a unique new programme that enables overseas remote working professionals to live in Dubai while continuing to serve their employers in their home countryhttps://t.co/FUc4FjIB2p pic.twitter.com/3FyIA7r8mb
— Dubai Media Office (@DXBMediaOffice) October 15, 2020
درخواست دہندگان کے پاس پاسپورٹ کم از کم چھ ماہ کی میعاد کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ متحدہ عرب امارات کی کوریج کے ساتھ صحت انشورنس ، ایک سال کے معاہدے کی توثیق کے ساتھ موجودہ آجر سے ملازمت کا ثبوت اور ہر ماہ کم از کم 5،000 درہم کی تنخواہ ہونا چاہئے۔ درخواست گزار کو سیلری سلپ اور گزشتہ تین مہپینوں کے بنک تفصیلات بھی پیش کرنی ہوں گی۔
متحدہ عرب امارات گولڈن ویزا ، طویل مدتی رہائش
2019 میں متحدہ عرب امارات نے ایک طویل مدتی ریزیڈنسی ویزا سکیم نافذ کی تھی جس کے تحت غیر ملکیوں کو کسی قومی اسپانسر کی ضرورت کے بغیر متحدہ عرب امارات میں رہائش ، ملازمت اور تعلیم حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے اور متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر اپنے کاروبار کی 100 فیصد ملکیت کے ساتھ یہ ویزا 5 یا 10 سال کیلئے جاری کیے جاتے ہیں اور خود بخود اس کی تجدید ہوجائے گی۔
اس طرح کا ویزہ خصوصی ٹیلنٹ اور محققین کو بھی جاری کیے جاتے ہیں اور ذہین سائنسی صلاحیتوں کے حامل روشن طلبہ بھی اس سے مستفد ہو سکتے ہیں۔
گولڈن ویزا اسکیم میں مزید کیٹگری بھی شامل ہیں
پچھلے سال نومبر میں متحدہ عرب امارات نے پیشہ ور افراد کی مزید کلاسوں کیلئے 10 سالہ سنہری ریزیڈنسی ویزا جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
Source : Khaleej Times







