
خلیج اردو
ابوظہبی: ابوظہبی کورٹ آف کیسیشن نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے اس کمپنی کو ذمہ دار قرار دیا ہے جس کے ورکر کام کے دوران حادثے کے باعث جزوی طور پر مفلوج ہوگئے تھے، عدالت نے کمپنی کو 15 لاکھ درہم بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔ یہ فیصلہ یو اے ای میں ورکرز کی سلامتی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے عزم کو مزید واضح کرتا ہے۔
کیس ایک دیوانی مقدمے سے متعلق تھا جو کارکن نے کمپنی کے خلاف دائر کیا تھا۔ اس نے موقف اختیار کیا کہ کام کے دوران مناسب حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث وہ گر گیا اور اس کے جسم کا نچلا حصہ مفلوج ہوگیا جبکہ جسمانی افعال کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوگئی۔ اس نے 1 کروڑ درہم کے ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔
ابتدائی طور پر عدالت نے کارکن کے حق میں 11 لاکھ درہم ہرجانے کا فیصلہ دیا لیکن اپیل کے بعد عدالت عالیہ نے رقم بڑھا کر 15 لاکھ درہم مقرر کی۔
ورکر اور کمپنی دونوں نے کیسیشن کورٹ میں اپیل دائر کی۔ ورکر نے کہا کہ ہرجانے کی رقم اس کی حالت کے مقابلے میں کم ہے اور اسے مکمل 1 کروڑ درہم ملنے چاہئیں، جبکہ کمپنی نے اعتراض اٹھایا کہ کیس سول کورٹ کے بجائے لیبر کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ورکر اس کا براہ راست ملازم نہیں تھا بلکہ سب کنٹریکٹر کے تحت کام کررہا تھا اور وہ حفاظتی بیلٹ نہ پہننے کی وجہ سے خود بھی حادثے کا ذمہ دار ہے۔
عدالت نے دونوں اپیلیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ معاوضے کی رقم منصفانہ ہے۔ فیصلے کے مطابق 8 لاکھ درہم چار افعال کی مکمل معذوری (جسم کا نچلا حصہ، مثانے کا کنٹرول، آنتوں کا کنٹرول اور جنسی صلاحیت) کے لیے دیے جائیں گے جبکہ 7 لاکھ درہم دیگر نقصانات بشمول جسمانی و ذہنی اذیت، روزگار کی صلاحیت کا نقصان، آئندہ علاج اور اخلاقی نقصان کے لیے دیے جائیں گے۔
عدالت نے کمپنی کا یہ مؤقف بھی رد کردیا کہ سب کنٹریکٹر ذمہ دار ہے، اور کہا کہ فوجداری عدالت پہلے ہی کمپنی کو براہِ راست ذمہ دار قرار دے چکی ہے۔ ورکر کی مبینہ غفلت سے متعلق دعویٰ کے لیے بھی عدالت نے شواہد ناکافی قرار دیے۔
یہ فیصلہ، جو 10 ستمبر کو جاری ہوا، اس اصول کی دوبارہ تصدیق کرتا ہے کہ یو اے ای میں آجر اپنے ورکرز کی سلامتی کے حتمی طور پر ذمہ دار ہیں اور وہ یہ ذمہ داری سب کنٹریکٹرز یا خود ملازمین پر منتقل نہیں کرسکتے۔







