
خلیج اردو
دبئی: یو اے ای میں حالیہ المناک ٹریفک حادثے میں چار بہن بھائیوں کی ہلاکت کے بعد ماہرینِ نفسیات نے خبردار کیا ہے کہ بچے موت کے صدمے کو بڑوں سے بالکل مختلف انداز میں محسوس اور سمجھتے ہیں، اور اس کا اثر کئی برسوں تک خاموشی سے ان کی شخصیت پر قائم رہ سکتا ہے۔
فاطمہ ایس (فرضی نام) نے بتایا کہ دو برس سے زائد عرصے تک وہ اپنی بیٹی کے بدلتے رویّے کو سمجھ نہ سکیں۔ کبھی خوش مزاج اور اسکول جانے کی شوقین بچی خاموش ہو گئی، کلاسز سے کترانے لگی اور مشکل سوالات کرنے لگی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پرائمری اسکول کے زمانے میں ایک قریبی دوست کی موت کا غم خاموشی سے اپنے دل میں دبائے بیٹھی تھی۔
فاطمہ کے مطابق ان کی بیٹی اور اس کی دوست ہم جماعت تھیں، ایک ہی بس میں آتی جاتیں، ساتھ کھانا کھاتیں اور ساتھ گھر لوٹتی تھیں۔ جب دوست کا انتقال ہوا تو گھر والوں نے بچی کو حقیقت نہ بتائی اور کہا کہ وہ اپنے آبائی شہر چلی گئی ہے۔ تاہم بچی کو کچھ غلط ہونے کا احساس تھا۔ آٹھ ماہ بعد اسکول کھلنے پر اسے حقیقت معلوم ہوئی تو وہ ٹوٹ گئی اور اسکول جانے سے انکار کرنے لگی۔
آج چار برس گزرنے کے بعد بھی، ساتویں جماعت میں پڑھنے والی بچی اپنی دوست کو نہیں بھولی۔ وہ اب بھی اس کے لیے دعا کرتی ہے اور مشترکہ یادوں کا ذکر کرتی ہے۔
ایک اور والدین نے بتایا کہ ان کے بیٹے پر صدمے کا اثر خوف کی صورت میں سامنے آیا۔ پہلے دادا کے انتقال کو وہ سمجھ گیا، لیکن جب ایک کم عمر کزن کی موت کا علم ہوا تو اسے احساس ہوا کہ بچے بھی مر سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ خاموش اور تنہا رہنے لگا، اور یہ کیفیت کئی برس تک رہی۔ ماحول کی تبدیلی سے کچھ بہتری آئی، مگر موت سے جڑا خوف آج بھی اس کے دل میں موجود ہے۔
کلاس رومز میں خاموش غم
حالیہ رپورٹس کے مطابق یو اے ای کے اسکولوں میں اساتذہ اور عملہ ایسے بچوں کی مدد کے لیے آگے بڑھ رہا ہے جو دوست یا ہم جماعت کو کھو دیتے ہیں۔ بعض اسکولوں میں بچوں کو اپنے جذبات کے اظہار کا موقع دیا جا رہا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کا سہارا بن سکیں۔
ماہرین کی رائے
دبئی کے میڈیور اسپتال کی کلینیکل ماہرِ نفسیات ڈاکٹر رینا تھامس کے مطابق بچوں کا ردِعمل ان کی عمر، شخصیت اور سمجھ بوجھ پر منحصر ہوتا ہے۔
“کچھ بچے روتے ہیں، کچھ بالکل خاموش ہو جاتے ہیں۔ خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صدمے سے نکل چکے ہیں۔”
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کے سونے، کھانے، رویّے، اسکول میں دلچسپی اور خوف میں تبدیلیوں پر نظر رکھیں، سچائی کو نرمی سے بیان کریں، معمولاتِ زندگی برقرار رکھیں اور بچوں کو اپنے انداز میں جذبات ظاہر کرنے دیں۔
ڈاکٹر رینا کے مطابق:
“بچوں کے لیے والدین کی موجودگی اور تسلی، درست جواب سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ موت کی خبریں سننے والے بچے اکثر اپنا دکھ چھپا لیتے ہیں، اور والدین کو اس کا احساس کئی برس بعد ہوتا ہے کہ ان کا بچہ اب پہلے جیسا نہیں رہا۔







