متحدہ عرب امارات

یو اے ای کا ایمرجنسی الرٹ سسٹم جغرافیائی بنیاد پر کام کرتا ہے، ہر شہری کو میزائل وارننگ موصول نہ ہونے کی وجہ سامنے آگئی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں میزائل خطرات کے دوران ہر شہری کو الرٹ موصول نہ ہونے کی وجہ سامنے آگئی ہے، جہاں حکام نے واضح کیا ہے کہ ایمرجنسی وارننگ سسٹم جغرافیائی بنیاد پر کام کرتا ہے۔

نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق الرٹس صرف ان علاقوں کو بھیجے جاتے ہیں جو براہ راست خطرے کی زد میں ہوں، اس لیے تمام افراد کو بیک وقت نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوتا۔

حکام کا کہنا ہے کہ “الرٹس کا اجراء خطرے کی نوعیت، مقام اور شدت کے مطابق کیا جاتا ہے”، اسی لیے بعض علاقوں میں الرٹ موصول ہوتا ہے جبکہ قریبی علاقوں میں نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی خرابی کی علامت نہیں بلکہ سسٹم کی درستگی اور مؤثر حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اتھارٹی کے مطابق بعض اوقات لوگ قریبی علاقوں میں دھماکوں یا آوازوں کی بازگشت سن سکتے ہیں، تاہم اگر انہیں الرٹ موصول نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ براہ راست خطرے میں نہیں تھے۔

حکام نے مزید بتایا کہ مارچ میں وارننگ سسٹم کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے تاکہ دن اور رات کے اوقات کے مطابق الرٹس کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ صبح 9 بجے سے رات 10:30 بجے تک ہائی ٹون الرٹ دیا جاتا ہے، جبکہ رات کے اوقات میں سادہ میسج ٹون استعمال کی جاتی ہے۔

ایمرجنسی کی صورت میں شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ فوری طور پر محفوظ عمارت میں پناہ لیں، کھڑکیوں اور کھلے مقامات سے دور رہیں اور حکام کی جانب سے مزید ہدایات کا انتظار کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button