
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کی فوڈ کلسٹر اسٹریٹجی، جو دو سال قبل ایک ’’کریزی آئیڈیا‘‘ کے طور پر شروع کی گئی تھی، اب معیشت اور روزگار کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔ وزیر معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے دبئی میں منعقدہ فیوچر فوڈ فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے آئندہ چھ برس میں 20 ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہدف یہ ہے کہ کلسٹرز سے ملکی جی ڈی پی میں 10 ارب درہم کا اضافہ ہو اور تجارتی سرگرمیاں 25 ارب درہم سے بڑھا کر 45 ارب درہم تک پہنچائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فوڈ کلسٹر کے ذریعے امپورٹس کو 90 فیصد سے کم کر کے تقریباً 60 فیصد تک لایا جائے گا، جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے تبدیلی کا موقع ہے۔
فورم کے ساتویں ایڈیشن میں دنیا بھر سے ماہرین شریک ہوئے تاکہ علاقائی مسابقت اور تجارتی سہولت کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس موقع پر ’’کلسٹر چیمپئن شپ ایوارڈ‘‘ کا بھی اعلان کیا گیا، جو امارات کے فوڈ ایکو سسٹم میں سب سے اعلیٰ اعزاز قرار دیا گیا ہے۔
عبداللہ بن طوق نے بتایا کہ فوڈ کلسٹر کا آئیڈیا کووڈ-19 وبا کے دوران پروفیسر مائیکل پورٹر کے کلسٹر ماڈل کا مطالعہ کرتے ہوئے سامنے آیا۔ بعدازاں وزارت معیشت و سیاحت نے پانچ بڑے کلسٹرز کا انتخاب کیا جن میں پہلا فوڈ اور فوڈ پروسیسنگ تھا۔ وزیر نے یہ تجویز متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے سامنے رکھی، جنہوں نے اس آئیڈیا کو قبول کر لیا۔
گزشتہ ہفتے وفاقی کابینہ نے نیشنل پالیسی برائے اکنامک کلسٹرز کی منظوری دی، جس کے تحت آئندہ سات برسوں میں ملک کی غیر ملکی تجارت میں 15 ارب درہم کا اضافہ متوقع ہے۔
یو اے ای فوڈ کلسٹر کے چیئرمین صالح لوتاہ نے کابینہ کے فیصلے کو ’’ڈریم کم ٹرو لمحہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ عوامی اور نجی شعبے کے درمیان حقیقی شراکت داری کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کے دوران فوڈ کلسٹر نے زراعت، لاجسٹک اور فرنچائزنگ سمیت مختلف شعبوں میں 1000 سے زائد ملاقاتیں کیں۔
مزید برآں، متحدہ عرب امارات سوئٹزرلینڈ کے فوڈ کلسٹر ماڈل کو مقامی طور پر اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سوئس فوڈ کلسٹر کے ماہرین نے بتایا کہ مضبوط تعلیمی نظام، تحقیق و ترقی کے مراکز اور اسٹارٹ اپ ایکسیلیریٹرز اس کامیابی کی بنیاد ہیں۔ نیسلے مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ کی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی سربراہ رانیہ ابو سمرہ نے کہا کہ کمپنی اماراتی فوڈ کلسٹر کے ساتھ بھی شراکت داری قائم کرنے کی خواہاں ہے۔







