
خلیج اردو
31 مئی 2020
ابوظبہی : العین کی ابتدائی عدالت نے ایک نجی اسپتال کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک ڈاکٹر کو 100 ہزار درہم کی رقم ادا کریں جس نے اس کے ساتھ معاہدے کو توڑا تھا۔
ایمرت الیوم کے مطابق نیورولوجسٹ نے اسپتال کے خلاف لا سوٹ دائر کیا تھا جس میں انہوں نے 300 ہزار درہم ادا کرے کیونکہ اسپتال کی وجہ سے انہیں بھاری نقصان اٹھانا پرا۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال نے انہیں ای میل کے ذریعہ ایک پیش کش کی ہے جس میں ان کو 55،000 ماہانہ تنخواہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر نے اس پیش کش کو قبول کرلیا اور اپنی ذمہ داری نبھانے کیلئے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات چلا آیا۔
ڈاکٹر کے مطابق اسپتال نے ابوظہبی میں محکمہ صحت سے لائسنس لینے کے لئے کہا ۔ جب ڈاکٹر نے لائنسس لیا تو اسپتال نے ان کی تقرری سے انکار کیا۔ یہ سب دو سال کے معاہدہ ہونے کے باوجود ہوا۔
معاہدے کی خلاف ورزی کے نتیجے میں ڈاکٹر کو مالی نقصان ہوا ، جو نیا یہ عہدہ سنبھالنے کیلئے اپنے ملک میں اپنا کام چھوڑ چکے تھے۔
ڈاکٹر نے مزید کہا کہ اسپتال میں جاری وبائی بیماری کا حوالہ دیتے ہوئے اسے دو ہفتے مزید انتظار کرنے کا کہا گیا ہے۔ جب پندرہ دن گزر جانے کے بعد بھی اسپتال ان کے معاہدے کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو میں نے مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔
عدالت نے بتایا کہ شواہد کی بنیاد پر اسپتال نے شکایت کنندہ کے خلاف اپنی معاہدہ کی ذمہ داری کی خلاف ورزی کی تھی ۔ عدالت نے قرار دیا کہ مالی اور ذہنی اذیت کے بدلے ڈاکٹر کو 100 ہزار درہم کا ہرجانہ ادا کیا جائے۔
Source : Khaleej Times







