متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : ریٹائرمنٹ کی عمر میں نوکری سے متعلق معلومات جان لیں

خلیج اردو
28مارچ 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات ہر عمر کے افراد کیلئے ہمیشہ سے موجود رہتا ہے۔ ایک بزرگ شہری اکا سوال دیگر ایسے بہت سے افراد کا بھی ہو سکتا اور اس کا جواب یکسان طور پر سب کیلئے مفید ہو سکتا ہے۔ زیل میں سوال اور اس کا جواب موجود ہے۔

سوال : میں طویل عرصے سے متحدہ عرب امارات کا رہائشی ہوں۔ میرے بزرگ والدین جون 2020 تک میرے ساتھ تھے۔ لیکن کرونا وائرس کے باعث پیش آنے والی مالی پریشانیوں کے سبب مجھے انہیں ہندوستان واپس بھیجنا پڑا۔ اب میں دوبارہ والدین کو وزٹ ویزا پر واپس بلانے کا ارادہ کر رہا ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں اب بزرگ بھی کام کر سکتے ہیں۔ کیا میرے 65 سالہ والد جوکہ ریٹائرڈ اسکول ہیڈ ماسٹر ہیں ، کیلئے دبئی میں نوکری تلاش کرنا ممکن ہوگا

جواب: آپ کے سوالات کے مطابق یہ وضاحت کر دیں کہ وزرت افرادی قوت اور ایمریٹائزیشن جنوری 2011 سے 60 سے 65 سال کے افراد کی ملازمت کی درخواست قبول کررہے ہیں۔ تمام نجی اداروں میں کام کرنے کے حوالے سے عمر 65 سال ہے۔

کسی بھی شخص کی کام کی نوعیت ، اس کی تعلیمی اسناد اور مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریٹائرمنٹ پر 65 سال کی عمر کی حد میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے تاہم ایسے میں ضروری ہے کہ جس اداے کیلئے وہ کام کررہا ہو اس کی رضامندی ضروری ہے۔

حکام کی منظوری سے مشروط ملازمین کی عمر 65 سال کی ہونے کے بعد سالانہ ملازمت کا ویزا جاری کیا جاسکتا ہے۔تاہم اس کیلئے اس کمپنی کے آجر کو سالانہ 5000 درہم اس ملازمین کی وجہ سے وزارت انسنایی وسائل کو ادا کرنے ہوں گے۔

یہ وزارت داخلہ کی طرف سے فراہم کردہ سروسز کیلئے فیس اور جرمانے سے متعلق وزراء کی قرارداد نمبر (27) کے آرٹیکل 1 کی 2010 کے ٹیبل نمبر 3 کے مطابق ہے۔ کوئی ایسا ادارہ جس کو آپ کے والد کے ہنر سیٹ ، اسناد ، مہارت اور تجربہ کی ضرورت ہو ، وہ آپ کے والد کے ورک پرمٹ اور رہائشی ویزا کیلئے درخواست دینے کی پوزیشن میں ہوسکتا ہے۔

اگر آپ متحدہ عرب امارات میں اپنے والد کے رہائشی اجازت کو بطور اسپانسر کفالت کرتے ہیں تو آپ کسی ایسے ادارے کو این او سی دے سکتے ہیں جو آپ کے والد کو ملازمت دینے کیلئے راضی ہو اور اس کے بعد آپ کے والد کے ورک پرمٹ کے اجراء کو وزارتط انسانی وسائل کی منظوری سے مشروط کیا جانا ضروری ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button