متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں بھارتی پیشہ ور افراد کی بلند تنخواہیں، نئی صنعتوں میں ماہانہ آمدن 45 ہزار درہم تک پہنچ گئی

خلیج اردو
دبئی: 21 جولائی
متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اور دیگر ابھرتی ہوئی صنعتوں میں مڈ سے سینئر سطح کے بھارتی پیشہ ور افراد کی تنخواہیں ماہانہ 45 ہزار درہم تک جا پہنچی ہیں۔ یہ انکشاف بھارت کی معروف ٹیلنٹ کمپنی "کیرئیرنیٹ گروپ” نے کیا ہے۔

کیرئیرنیٹ کے سی ای او اور شریک بانی انشومن داس نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں بتایا کہ امارات میں بھارتی ٹیکنالوجی ماہرین بھارت کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، "ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل یا پروڈکٹ رولز میں بھارتی پیشہ ور افراد کی ماہانہ آمدن عمومی طور پر 25 ہزار سے 45 ہزار درہم کے درمیان ہوتی ہے، جبکہ سینئر اور مخصوص مہارتوں کے حامل افراد کی تنخواہیں اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔”

انشومن داس کے مطابق آج کے امیدوار صرف بنیادی تنخواہ کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ وہ رہائش کی سہولت، کارکردگی پر بونس، طویل مدتی ترقی کے امکانات، اور بین الاقوامی تجربے کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ "متحدہ عرب امارات ان تمام پہلوؤں پر پورا اترتا ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی یا کنسلٹنگ جیسے شعبوں میں کام کرنے والے بھارتی افراد اپنی بھارت میں ملنے والی تنخواہوں سے دو سے تین گنا زیادہ کما سکتے ہیں، جبکہ ٹیکس کی چھوٹ انہیں مزید 20 سے 35 فیصد کا فائدہ دیتی ہے۔

داس نے بتایا کہ آج کل ملازمت کے مواقع نہ صرف مالی لحاظ سے فائدہ مند ہیں بلکہ معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ہیں۔ "کئی کمپنیاں رہائش الاؤنس، میڈیکل انشورنس اور بچوں کی تعلیم کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہیں۔”

ترقی پذیر شعبے اور بڑھتی ہوئی طلب

انشومن داس نے کہا کہ متحدہ عرب امارات — بالخصوص دبئی — طویل عرصے سے بھارتی ہنرمندوں کو اپنی جانب راغب کرتا رہا ہے، لیکن اب توجہ تیزی سے ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک اور ڈیجیٹل انوویشن جیسے شعبوں پر مرکوز ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ تبدیلی بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے پرکشش مواقع پیدا کر رہی ہے۔ بھارت اور یو اے ای کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات اور انوویشن پر مشترکہ زور اس رجحان کو مزید تقویت دے رہا ہے۔”

ان کے مطابق، ویب 3، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، سیمی کنڈکٹر انجینئرنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل فنانس جیسے ابھرتے شعبے بڑی سطح پر سرمایہ کاری حاصل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان مہارتوں کے ماہرین کی مانگ میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹارٹ اپس یا کنسلٹنگ کا تجربہ رکھنے والے ماہرین خاص طور پر قابل قدر ہیں، کیونکہ وہ نئی مارکیٹ کی رفتار سے ہم آہنگ ہونے، مسائل کا حل نکالنے، اور کثیر الجہتی صلاحیتوں کے ساتھ کام کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

عارضی ملازمت سے طویل مدتی کیریئر کی طرف رجحان

فی الوقت متحدہ عرب امارات میں 36 لاکھ سے زائد بھارتی شہری مقیم ہیں، جبکہ خلیجی ممالک میں یہ تعداد 90 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

داس نے کہا، "ماضی میں زیادہ تر بھارتی پیشہ ور افراد یو اے ای کو ایک عارضی یا عبوری منزل کے طور پر دیکھتے تھے، مگر اب یہ تصور بدل رہا ہے۔ علم پر مبنی معیشت، عالمی سطح پر شناخت، طویل مدتی ویزے، اور بہتر کیریئر کے مواقع کے باعث بھارتی ماہرین یہاں طویل مدتی بنیادوں پر قیام اختیار کر رہے ہیں۔”

مشرق وسطیٰ میں کیرئیرنیٹ کا پھیلاؤ

کیرئیرنیٹ گروپ نے حال ہی میں دبئی میں اپنا علاقائی ہیڈکوارٹر قائم کیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی خدمات کو وسعت دی جا سکے۔ داس کے مطابق، "یہ صرف ایک مارکیٹ نہیں بلکہ ہماری ترقی کی حکمت عملی کا ایک اہم ستون ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، "ہم برسوں سے یو اے ای میں کمپنیوں کی بھارت سے بھرتی میں مدد کرتے آ رہے ہیں، اور اب اپنی براہ راست موجودگی کے ساتھ ہم اپنی مکمل خدمات یہاں لا رہے ہیں تاکہ خطے کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔”

انہوں نے اختتام پر کہا، "ہماری کوشش ہے کہ اگلی نسل کے قائدین کو شناخت کریں، اعلیٰ اثر رکھنے والے ٹیلنٹ چینل بنائیں، اور متحدہ عرب امارات کو عالمی انوویشن کا مرکز بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button